اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ انتخابات میں آئین کی خلاف ورزی پر کارروائی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی۔
عدالت نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ الیکشن کے خلاف پہلے سے زیر سماعت کیس کے ساتھ یکجا کردیا۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک اور بھی پٹیشن آئی ہوئی تھی اس کے ساتھ ہم اس درخواست کو یکجا کریں گے، ہم پہلے دیکھیں گے کہ وہ کون سی درخواست تھی اسکے ساتھ اس کیس کو لگائیں گے۔
درخواست گزار نے سوال کیا کہ کیس کب سنا جائے گا، میں انتظار کروں ، میں یہاں سے نہیں ہوں سرگودھا سے آئی ہوں جس پر چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ آپ پھر جا سکتی ہیں ہم پہلے دیکھیں گے پہلے کونسی درخواست زیر سماعت ہے۔
درخواست گزارعشبہ کامران نے عدالت کو بتایا کہ میری درخواست میں آرٹیکل 59 کا بھی ذکر موجود ہے ، آرٹیکل 59اور 60 کی خلاف ورزی ہوئی ہے، آرٹیکل 6 کی کاروائی بنتی ہے، تمام صوبوں سے یکساں سینیٹرز منتخب ہوتے ہیں۔
عدالت میں دائر درخواست کے مطابق خیبرپختونخوا میں سینیٹ الیکشن ہی نہیں ہوا الیکشن کمیشن سے ان کا الیکشن ملتوی ہوگیا تھا جب کہ آرٹیکل 60 کہتا ہے جب سینٹ پورا ہو تب چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن ہوسکتا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ 9 اپریل کو ہونے والے چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں آئین کے آرٹیکل 60 کی خلاف ورزی کی گئی، الیکشن کمیشن کا عین وقت پر خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات ملتوی کرانا قابل تشویش ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ 9 اپریل کے چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخابات کو آئین کے برخلاف ہونے پر کاالعدم قرار دیا جائے۔
بعد ازاں عدالت نے پہلے سے زیر سماعت کیس کے ساتھ درخواست کو یکجا کرنے کی ہدایت کردی۔ اور کیس کی سماعت ملتوی کردی جب کہ نئی تاریخ بعد میں جاری کی جائے گی۔



















