آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ پرتشدد مظاہروں میں اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران شہادت پانے والے سب انسپکٹر عدنان شہید نے شر پسندوں کے حملوں کے خلاف اور امن کی خاطر جامِ شہادت نوش کیا۔
آزاد کشمیر کے دلخراش سانحے میں شہید ہونے والے سب انسپکٹر عدنان قریشی کی شہادت پر اہلخانہ کا سر فخر سے بلند ہے اور ان کے اہلخانہ نے وطنِ عزیز کی بقاء کےلئے قربانی کا عزم کا اظہار کیا۔
سب انسپکٹر عدنان قریشی شہید کی شہادت پر اُن کے والد کا کہنا تھا “مجھے باپ ہونے کے ناطے بہت دکھ ہے مگر مجھے فخر ہے کہ میرے بیٹے نے جام شہادت نوش کیا “۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے بیٹے کو ملک و قوم کی خدمت کے لئے وقف کر دیا تھا، میرے بچے کی طرح ہزاروں جوان ملک دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، ہم موت سے ڈرنے والے نہیں ، میرا ایمان ہے کہ موت تو آنی ہے۔
والد سب انسپکٹرعدنان شہید کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے نے شر پسندوں کے عزائم خاک میں ملا دیے، ان انتشاری ٹولوں کا مقصد ملک میں افراتفری پھیلانا ہے، اللہ کے فضل سے سینکڑوں عدنان وطنِ عزیز کی حفاظت کے لیے تیار ہیں۔
اس افسوسناک واقعے پر ایس ایس پی میر پور،کامران علی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ شر پسندوں نے آزاد جموں و کشمیر کا امن تباہ کرنے کی کوشش کی، ہمارے بہت قیمتی آفیسر نے جام شہادت نوش کیا ہے۔
ایس ایس پی میر پو کا کہنا تھا کہ کسی صورت بھی ملوث عناصر کو نہیں چھوڑا جائے گا، شر پسندوں نے روڈ بلاک کر رکھے تھے جس طرح ہمارے جوانوں نے زخمیوں کو وہاں سے نکالا اس پر میں انکو سلیوٹ پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فائرنگ اور پتھراؤ کے دوران عدنان شہید کو وہاں سے نکالا گیا، ایمبولینس تک کا راستہ روکا گیا ، یہ کیسا پر امن احتجاج ہے۔
دوسری جانب ایس ایچ او تھوتھل وجاہت کاظمی کا کہنا تھا کہ عدنان شہید کو جب گولی لگی تو انکا خون تیزی سے بہہ رہا تھا اور ان کے چہرے پرتب بھی مسکراہٹ تھی، عدنان شہید کی زبان پر اللہ اکبر اور کلمہ طیبہ کا ورد جاری تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان شر پسند عناصر کا مقصد احتجاج نہیں بلکہ آزاد جموں و کشمیر کا امن تباہ کرنا تھا، احتجاج کی آڑ میں امن تباہ کرنے والے یہ شر پسند عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔



















