قومی اسمبلی اجلاس میں تلخ کلامی کے بعد مسلم لیگ ق کے رہنما طارق بشیر چیمہ نے پی ٹی آئی رکن زرتاج گل سے معافی مانگ لی۔
اسپیکرقومی اسمبلی ایازصادق نے دونوں کے درمیان معاملہ ختم کر ایا۔ اپوزیشن لیڈر عمرایوب نے اسپیکر کا شکریہ ادا کیا، پی ٹی آئی اراکین سمیت تمام فریقین نے اسپیکر کے کردار کو سراہا۔
بعد ازاں، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے زرتاج گل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری بہن زرتاج گل کو دھمکی آمیز الفاظ کا سامنا کرنا پڑا، تمام جماعتوں نے ایک آواز میں کہا کہ ہم ساتھ ہیں، خاتون کے ساتھ یہ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ طارق بشیر چیمہ نے زرتاج گل سے چیمبر میں معافی مانگی، جو نازیبا الفاظ کہے اس پر ان کو آئندہ سیشن کیلئے معطل کر دیا گیا۔
زرتاج گل کا کہنا تھا کہ میں بیرسٹر صاحب اور تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہو، میں باقی تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کرتی ہو، جو میرے ساتھ کھڑے ہوئے، خواتین کا یہاں تک آنا آسان نہیں ہوتا ہم بھی یہاں محنت سے آتے ہیں، خواتین کمزور نہیں اور میں مضبوط خاتون ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ طارق بشیر چیمہ چل کر آئے تو میں نے معافی قبول کی، میں نے اپنی قیادت کی بات مانی۔
اس سے قبل قومی اسمبلی اجلاس کے دوران مسلم لیگ ق کے رکن اسمبلی طارق بشیر چیمہ نے اپنی تقریر کے دوران زرتاج گل سے متعلق کچھ کہا اور تقریر کے بعد انہوں نے زرتاج گل کی نشست پر جاکر انہیں مبینہ طور پر کچھ نازیبا الفاظ کہے۔
جس کے بعد سنی اتحاد کونسل کے ارکان غصے میں آکر طارق بشیر چیمہ کی طرف لپکے ، تاہم طارق بشیر کو آغا رفیع اللہ ایوان سے باہر لے گئے۔



















