متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے تمام اداروں میں دہری شہریت کے قانون پر عملدرآمد کا مطالبہ کردیا۔
سابق میئر کراچی مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اگرملک میں کہیں سب سے زیادہ ظلم ہے تو وہ یہاں عدالتوں میں ہے، جہاں پرانصاف کا نظام ہوناچاہیے وہاں پرایسا کچھ نہیں ہے، سیاستدان حکومتیں پولیس توظالم ہیں انصاف کانظام کہاں ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کسی مظلوم کوعدالتی احاطےمیں خود کو محفوط سمجھناچاہیے، یہاں بدقسمتی سےوہیں پرمظلوم کے ساتھ ظلم ہےجہاں انصاف کانام ہے۔
انہوں نے کہا کہ سود کے خلاف 8 سال کے بعد شریعت کورٹ سے فیصلہ آتا ہے، فیصلے میں پانچ سال کا وقت دے دیا گیا، سود کے خلاف فیصلہ ہے اور 5 سال کا وقت دیا گیا، دو سال سے وہ فیصلہ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔
مصطفی ٰکمال کا کہنا تھا کہ ججز کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی سوموٹو ہو گیا، کوئی سوموٹو نہیں کوئی ایکشن نہیں اپیلیں پڑی ہوئی ہیں، ہم اپنے معاشرے میں کئی چیزوں پر بٹے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر قوم کسی ایک ادارے پر یکجا ہے تو وہ ہماری فوج ہے، آج قوم کو یکجا رکھنے میں فوج نے کرداراداکیا، 70 سال سے کئی عدالتوں سے سود کی لعنت کے خلاف فیصلے آئے، ججز کے ایک خط کے معاملے پر سوموٹو ہوگیا۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ایک ایپلیٹ بنچ کی مار تھا، شرعی عدالتوں نے سود کے خلاف فیصلے دیئے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا دہری شہریت والاجج نہیں بن سکتا، معاشرے میں عدلیہ کسی مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کوتیار نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کیا دہری شہریت والے شخص کو جج ہونا چاہیے، کسی ملک کی شہریت لیتے وقت وہاں کی وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ اس ملک میں بغیر پیسے خرچ کیےانصاف لے لے، کئی بار ارکان اسمبلی کو جعلی ڈگری کے نام پر گھر جاتے دیکھا، دہری شہریت پر بھی گھر بھیج دیا جاتا، نواز شریف کو تنخواہ نہ لینے پر گھر بھیج دیا گیا تھا۔



















