اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کی تمام تر کاوشوں کے باوجود کسان پریشان ہیں۔
ذرائع کے مطابق گندم درآمد اسکینڈل اور انکوائری رپورٹ پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے جب کہ زمہ داران کا تعین اور کسان سے خریداری سمیت وزارت فوڈ سیکیورٹی اور متعلقہ ادارے خاموش ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے بھی گندم کی خریداری شروع نہیں ہوسکی ہے، وفاق کی درخواست کے باوجود پنجاب نے گندم کی خریداری نہیں کی۔
ذرائع نے بتایا کہ پاسکو کے ذخائر میں چار لاکھ ہدف بڑھانے کی منظوری بھی ہوچکی ہے، گندم اسکینڈل کے باعث جی ایم اور ایم ڈی پاسکو کو عہدے سے ہٹایا گیا جب کہ اسکینڈل کی انکوائری رپورٹ کے مینڈیٹ میں ایک ہفتے کا اضافہ کیا گیا تھا۔
ذرائع نے کہا کہ ڈھائی ہفتے گزرنے کے باجود انکوائری رپورٹ پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
فوڈ سیکیورٹی کے ذرائع نے بتایا کہ وفاق پاسکو کی جانب سے گندم کی خریداری کی مکمل مانیٹرنگ کر رہا ہے جب کہ پاسکو میں گندم کی خریداری میں مبینہ بد عنوانی کی تحقیات جاری ہیں۔
فوڈ سیکورٹی حکام نے کا کہنا ہے کہ پاسکو کی جانب سے کسانوں سے گندم کے خریداری یقینی بنائی جائے گی۔
کسان اتحاد نے کہا کہ پنجاب حکومت نے تاحال گندم کی خریداری شروع نہیں کی، پنجاب میں خریداری نہ ہونے سے گندم کی قیمت 24 سو روپے فی من پر ہے۔
کسان اتحاد کا مزید کہنا تھا کہ فی بوری کی قیمت اس وقت کم ترین سطح 6 ہزار روپے پر ہے جب کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ نرخوں پر خریداری کہیں نہیں ہوئی۔



















