راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کی سماعت 22 مئی تک ملتوی۔
اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی جب کہ سماعت کو 22 مئی تک ملتوی کردیا گیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا، نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی اور امجد پرویز ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
بشریٰ بی بی کی جانب سے احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا، بشریٰ بی بی نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت ملتوی ہونے کے حوالے سے ہمیں آگاہ نہیں کیا گیا۔
بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ ہمیں سزا دینی ہے تو دے دیں میں کسی سے نہیں ڈرتی، میں قیدی نہیں ہوں، میں ناانصافیوں کا شکار ہوں۔
بشریٰ بی بی کے جواب میں عدالت میں کہا کہ ہم نے وکلاء کو سماعت ملتوی ہونے کے حوالے سے آگاہ کیا تھا، جیل انتظامیہ کی استدعا پر سماعت ملتوی کی، آپ کو غلط فہمی ہوئی کہ میں نے آگاہ نہیں کیا۔
بشری بی بی کے عدم اعتماد کے اظہار پر عدالتی کارروائی میں وقفہ کردیا گیا تاہم وکلاء کی طویل مشاورت کے بعد بشریٰ بی بی نے عدم اعتماد واپس لے لی۔
نیب کے جانب سے پیش کردہ گواہان کے بیانات قلمبند نہیں ہوسکے ہیں، بشری بی بی آج وکلاء، بانی پی ٹی آئی اور فاضل جج سے ناراض نظر آئیں۔
بانی پی ٹی آئی کے کہنے کے باوجود بشریٰ بی بی فیملی پورشن میں نہیں گئیں جب کہ انہوں نے بیٹیوں کے ساتھ ملاقات بھی اڈیالہ جیل کے الگ کمرے میں کی۔
بانی پی ٹی آئی کی جانب سے عثمان ریاض گل، ظہیر عباس چوہدری اور یوسف خالد چوہدری عدالت پیش ہوئے۔



















