فیصل واؤڈا اور مصطفی کمال کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے سے متعلق سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔
سپریم کورٹ کے جاری کردہ تحریری حکم نامے میں لکھا گیا کہ فیصل واؤڈا اور مصطفیٰ کمال نے بظاہر توہین عدالت کی۔ فیصل واؤڈا اور مصطفیٰ کمال کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ فیصل واؤڈا اور مصطفیٰ کمال آئندہ سماعت پر پیش ہوں اور توہین عدالت کے نوٹسز کا جواب دو ہفتوں میں دیا جائے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ فیصل واؤڈا اور مصطفیٰ کمال نے عدلیہ پر الزامات لگائے۔
سپریم کورٹ نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ فیصل واؤڈا اور مصطفیٰ کمال نے زیر سماعت مقدمات پر گفتگو کی۔ پیمرا فیصل واؤڈا اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس کا ریکارڈ اور ٹرانسکرپٹ جمع کرائے۔
سپریم کورٹ نے حکم نامے میں مزید کہا کہ فیصل واؤڈا اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس نشر کرنے والے بھی توہین عدالت کر رہے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ٹی وی چینلز اور دیگر میڈیا پلیٹ فارمز توہین عدالت کا مواد چلانے سے گریز کریں۔ ایسا مواد چلانا بند نہ کیا گیا تو میڈیا کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ کیس کی آئندہ سماعت 5 جون کو ہوگی۔



















