وزیر خزانہ کے پی کا کہنا ہے کہ قانون میں پابندی نہیں کہ صوبہ وفاق سے پہلے بجٹ پیش نہیں کرسکتا۔
خیبرپختونخوااسمبلی میں اجلاس کے دوران وزیرخزانہ آفتاب عالم نے بجٹ پرتقریرکرتے ہوئے کہا کہ قانون میں پابندی نہیں کہ صوبہ وفاق سے پہلے بجٹ پیش نہیں کرسکتا، این ایف سی میں جو14 فیصد بنتا ہے اسی تناسب سے بجٹ بنایا ہے۔
آفتاب عالم نے کہا کہ انضمام کے بعد ہمارے صوبے کا حصہ 14 سےبڑھ کر 19 فیصدہوگیا، 19 فیصد حصہ ہمیں نہیں دیا جا رہا، 14 فیصد کے تناسب سے 902 ارب ملیں گے۔
وزیرخزانہ آفتاب عالم نے کہا کہ 19 فیصد کے تناسب سے260 ارب مل سکتےہیں، 2023 کی مردم شماری میں ہمارے صوبے کا تناسب اوربھی بڑھ چکا ہے، بی آرٹی منصوبہ کے پراجیکٹس مکمل ہونے پرپائیدارمنصوبہ بن جائے گا۔
صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ چشمہ کنال کے لیے 2 ارب مختص ہیں، مزید رقم بھی دے سکتے ہیں، پیڈو کے 3 منصوبے رواں سال اگست میں مکمل ہوکرکام شروع کردیں گے، اے جی ایم قاضی فارمولا کے تحت ہماراپن بجلی منافع 1800 ارب ہوگا۔
آفتاب عالم نے تقریر میں کہا کہ 2016 کے معاہدے کے تحت ہماراوفاق کے ذمہ پن بجلی بقایا جات 111 ارب روپے ہیں، سوات اور دیر کی طرح ڈی آئی خان موٹروے پربھی کام ہوگا۔



















