پاکستان کا نیا مواصلاتی سیارہ پاک سیٹ ایم ایم ون خلا میں لانچ کردیا گیا۔ سپارکو کا پاک سیٹ ایم ایم ون چین کے شی چانگ لانچ سینٹر سے خلا میں چھوڑا گیا
شی چانگ خلائی مرکز میں سیٹلائٹ لانچ کی تیاریاں مکمل کی گئیں۔ ایم ایم ون سیٹلائٹ سپارکو اور چائنیز ایرواسپیس انڈسٹری کے باہمی اشتراک سے بنایا گیا ہے۔

پاک سیٹ ایم ایم ون 15 برس تک کام کرے گا۔ پاک سیٹ ایم ایم ون پاکستان بھر میں ٹی وی نشریات، سیلولر فون سروس اور براڈبینڈ سروس بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ پاک سیٹ ون ایم ایم رواں برس اگست میں سروس فراہم کرنا شروع کر دے گا۔
پاک سیٹ ایم ایم ون پورے پاکستان کو کوریج فراہم کرتے ہوئے کے اے بینڈ 10 گیگابائٹ بائٹس فی سیکنڈ صلاحیت کا حامل ہے۔ اس وقت پاکستان کے 2 کمیونیکیشن سیٹلائٹس خلا میں موجود ہیں۔

پاک سیٹ ون آر 2011 میں لانچ کیا گیا تھا، اس کی ڈیزائن لائف 15 سال تھی جو 2026 میں مکمل ہوجائے گی۔ پاکستان کا ایک اور ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ بھی خلا میں موجود ہے، پی آر ایس ایس ون 2018 میں لانچ کیا گیا تھا۔
پاکستان نے حال ہی میں اپنا پہلا قمری مصنوعی سیارہ آئی کیوب قمر بھی لانچ کیا ہے۔ پاکستان ملٹی مشن سیٹلائٹ ایم ایم ون سپارکو اور چائنہ گریٹ وال انڈسٹری نے مل کر تیار کیا ہے۔ پاک سیٹ ایم ایم ون جیو سٹیشنری سیٹلائٹ ہے۔ پاک سیٹ ایم ایم ون جدید ترین مواصلاتی ٹیکنالوجی پرمبنی ہے۔

پاک سیٹ ایم ایم ون پاکستان کی مواصلاتی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ پاک سیٹ ایم ایم ون پر موجود ایچ ٹی ایس ٹیکنالوجی ملک کے طول و عرض میں مواصلاتی سہولیات فراہم کرے گی۔ پاکستان اپنا SBAS سسٹم شروع کرنے والا دنیا کا 11 واں ملک ہوگا۔

پاک سیٹ ایم ایم ون پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق 5 بج کر 12 منٹ پر لانچ کیا جائے گا۔ چین کا لانگ مارچ راکٹ پاک سیٹ ایم ایم ون کو خلا میں لے کر جائے گا۔ پاک سیٹ ایم ایم ون کے کنٹرول اسٹیشنز لاہور اور کراچی میں موجود ہیں۔
پاک سیٹ ایم ایم ون پاکستان، بحر ہند، مشرق وسطی، افریقہ اور یورپ کے بعض علاقوں کو بھی کوریج فراہم کرے گا۔ پاک سیٹ ایم ایم ون کی کمیت 5ہزار کلوگرام ہے۔ پاک سیٹ ایم ایم 8 جون کو اپنے مقررہ مدار میں پہنچے گا۔ پاک سیٹ ایم ایم ون کم و بیش 9 روز کے سفر کے بعد اپنے مدار میں پہنچے گا۔



















