گورنر سندھ نے کہا ہے کہ حیدرآباد میں طبی امداد نہیں تھی جس کی وجہ سےنقصان ہوا، ا پہلے بھی ایسے سانحات ہوتے رہے ہیں لیکن ان سے سبق نہیں سیکھا۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں سلنڈردھماکےمیں 18جانیں چلی گئیں، سلنڈردھماکا افسوس ناک واقعہ تھاجس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
گورنر سندھ نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیرصحت سے درخواست کروں گا، حیدرآباد میں کراچی کی طرزکے بڑے اسپتال ہونے چاہئیں، حیدرآباد میں جونقصان ہوا وہ آپ کا اورمیراہوا ہے۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو اس کا سدباب کرنا ہے، حیدرآباد میں طبی امداد نہیں تھی جس کی وجہ سےنقصان ہوا، پہلے بھی ایسے سانحات ہوتے رہے ہیں لیکن ان سے سبق نہیں سیکھا۔
واضح رہے کہ حیدرآباد سلینڈر دھماکے میں مزید 4 اموات نے علاقے میں صف ماتم بچھا دیا ہے جب کہ سلنڈر دھماکوں میں جھلس جانے والے افراد کی اموات کی تعداد 18 ہوگٸی ہے۔
سلنڈر دھماکے میں زخمی دودا باگڑی بھی زندگی کی بازی ہار گیا جب کہ 15 سالہ عباس مبارک بھی زخموں کی تاب نہیں لاسکا اور دار فانی سے کوچ کرگیا۔
مذید خبر کی تفصیل پڑھیں؛



















