سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ معافی مانگنا کوئی گناہ تھوڑی ہے لیکن میں نے کوئی غلطی کی ہوگی تو معافی مانگوں گا نا۔
سپریم کورٹ کے باہر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میری باری آج نہیں تھی، معافی مانگنا گناہ نہیں لیکن اس کے لئے غلطی ہوتی ہے۔
فیصل واوڈا کہتے ہیں کہ میں نے غلط کام نہیں کیا، مجھے عدالت میں پیش ہونے کے لیے کوئی مسئلہ نہیں، پریس کانفرنس میں زیارہ تر حصہ مخصوص ججز کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے خط بھیجا اس کا جواب نہیں آیا جب کہ میں نے پورے میڈیا میں جو بات کی وہ سامنے ہے، انصاف کا نظام درست ہوگیا تو ملک درست ہو جائے گا۔
سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ دنیا میں پاکستان کی عدلیہ کا نمبر اس وقت 140 واں ہے، عدلیہ کے وقار کو 140 نمبر سے پہلے نمبرپر دیکھنا چاہتا ہوں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالت اور بنچ میں شامل ججزکی عزت کرتا ہوں، ہمارا کیس ابھی سنا نہیں جب باری آئے گی تو بتا سکتا ہوں، سپریم کورٹ میں اگلی تاریخ پر پتا چلے گا کہ کیا ہوگا۔



















