Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کوشش ہے کراچی کو امن کی صورتحال بہتر ہو، آئی جی سندھ

آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ کراچی کو امن کا گہوارا بنائیں۔ 

آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے کراچی کی مختلف صنعتی ایسوسی ایشنز کے صدور پر مشتمل 08 رکنی وفد نے ملاقات کی، وفد کی سربراہی ایف بی ایریا صنعتی زونز کے صدر رضا حسین کررہے تھے۔

ملاقات میں ایڈیشنل آئی جی کراچی عمران یعقوب منہاس کے علاوہ زونل ڈی آئی جیز کراچی،ڈی آئی جیز،ہیڈکوارٹرز سندھ، ٹریفک کراچی،سی آئی اے اور آئی ٹی بھی موجود تھے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ نے گذشتہ دنوں قتل ہونیوالے صنعتکار آصف بلوانی قتل کیس کی تفتیش میں ہونیوالی اب تک کی پیش رفت سے اجلاس کو آگاہ کیا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ قتل کی وجوہات کی جانچ کے لیے تیکنیکی پہلوؤں سے بھی تفتیش کی جارہی ہے۔

ایف بی صنعتی ایریا سمیت،لانڈھی،بن قاسم، کورنگی کی صنعتی تنظیموں کے صدور نے ملاقات میں سیکیورٹی امور و پولیس اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

صنعتی ایسوسی ایشنز کے صدور میں کاٹی کے سید جوہر علی قندھاری،لاٹی کے سراج ثاقد،این کے صنعتی ایریا کے محمد کامران عربی،بن قاسم کے رشید جان،سائٹ سپرہائی وے کے شاہین الیاس سروانہ و دیگر شامل تھے۔

فوری طور پر کراچی کے تمام صنعتی زونز میں پولیس نفری میں اضافہ کیاجائے۔آئی جی سندھ کی ایڈیشنل آئی جی کراچی کو ہدایت کی۔

آئی جی سندھ کی جانب سے شرکاء کو جنوری 2024 سے 07 جون تک کراچی میں امن وامان کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

اس موقع پر آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ یکم جنوری سے 07 جون تک کراچی میں 628 پولیس مقابلوں میں 96 ملزمان ہلاک، 704 زخمی جبکہ 2569 گرفتار ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ موبائل فونز،گاڑیوں کے چھیننے اور چوری ہونیکے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، ڈکیتی مزاحمت پر قتل کے60 کیسز میں سے 53 کو حل کرکے 53 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ ڈکیتی مزاحمت پر زخمی کیئے جانیکے 161کیسز میں سے 104 کو حل کرکے 132 ملزمان گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نشاندہی کیے جانے والے ہائی پروفائل 574 منشیات فروشوں کے خلاف ایکشن میں 14 مئی 2024 سے 10 جون 2024 تک سندھ بھر سے 279 منشیات فروشوں کو جیل کسٹڈی میں گیا جب کہ منشیات مافیاز کے 05 بڑے گروہوں کو ختم بھی کیا گیا۔

آئی جی سندھ کا مزید کہنا تھا کہ کیسز کے عدم اندراج کا فائدہ ملزمان کو جبکہ نقصان جسٹس سسٹم کو پہنچتا ہے، جرائم کی روک تھام کے لیئے شہروں کے داخلی و خارجی راستوں باالخصوص نادرن بائی پاس پر چہرہ شناس کیمرے نصب کردیئے گئے ہیں۔

آئی جی سندھ نے اسٹریٹ کرائم کے خلاف مستقبل قریب میں کیئے جانیوالے اقدامات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کی تکمیل سے جرائم کی سرکوبی یقینی ہوجائیگی، قتل اور منشیات جیسے مقدمات کے لیئے خصوصی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائیگا، پولیس تھانوں کے انضمام اور بجٹ کی فراہمی سے پولیسنگ کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹ بیسز پر 400 پراسکیوٹرز کی تقرریاں شعبہ تفتیش کو تقویت دیں گی، منشیات کے عادی افراد اور قیدیوں کے لیئے بحالی منصوبہ بھی آئندہ اقدامات کا حصہ ہیں، ہماری پوری کوشش ہیکہ کراچی کو امن کا گہوارا بنائیں، آپ لوگ اپنے گھروں اور کاروباری مقامات پر کیمرے نصب کریں۔

متعلقہ خبریں