Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہم اصول پر کھڑے ہیں اور سرنڈر نہیں کریں گے، مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ  ہم اصول پر کھڑے ہیں ہم سرنڈر نہیں ہوں گے، جو قوتیں ایسا کرتی ہیں انہیں عوام کے سامنے سرنڈر کرنا پڑے گا، ہم نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہیں

مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جے یو آئی ہر پانچ سال کے بعد ملک بھر میں عوامی سطح پر رکنیت سازی کرتی ہے، جے یو آئی کی ایسی تاریخ ہے کہ انتخابات میں کبھی کوئی وقفہ نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی سے زیادہ جمہوری معیار کسی جماعت میں نہیں ہے، ہر پاکستانی کو رکنیت سازی کی دعوت دیتے ہیں، ہم مثبت جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، اگلے دوماہ تک پورے ملک میں رکنیت سازی مہم چلے گی، مولانا عطا الحق درویش مرکزی ناظم انتخابات ہیں۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ہم آئینی راستے سے ہی جدوجہد کرتے ہیں، ہم پارلیمانی طریقہ کار سے وابستہ ہیں اور وابستہ رہیں گے، پاکستان کے خلاف ہر سازش کا مقابلہ کریں گے، عالمی قوتیں پاکستان پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی خود مختاری کے لئے ہر وقت کھڑے ہیں، ہم دنیا کے ممالک سے دوستی چاہتے ہیں غلامی قبول نہیں کریں گے، پاکستان میں جب الیکشن آتا ہے تو جاسوس ادارے حرکت میں آجاتے ہیں، جاسوس ادارے مقامی سطح تک الیکشن نتائج کنٹرول کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 2018 اور 2024 میں جاسوس اداروں نے الیکشن نتائج تبدیل کرائے، ہم عوامی اسمبلیاں لگا رہے ہیں، عوام نے دنیا کو بتادیا ہے کہ یہ ان کی رائے نہیں تھی، ہمارے ہم سفروں نے اصول تبدیل کیا اور اقتدار میں بیٹھ گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اصول پر کھڑے ہیں ہم سرنڈر نہیں ہوں گے، جو قوتیں ایسا کرتی ہیں انہیں عوام کے سامنے سرنڈر کرنا پڑے گا، ہم نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہیں، ہم سوات و فاٹا آپریشنز پر اعتراض کیا تھا، آج دہشتگردی کے نام پر جنرلز اور ایجنسیوں کی حکمت عملی ناکام ہوگئی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی ختم ہونے کی بجائے بڑھ گئی ہے، بلوچستان اور کے پی کے میں ریاستی رٹ ختم ہوچکی ہے، عوام مسلح افراد کے رحم و کرم پر ہیں، یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہمارے ادارے دہشتگردی کے خلاف لڑ رہے ہیں یا فاٹا کے وسائل پر کنٹرول حاصل کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نہ تو فوج اور نہ ہی ملکی دفاع کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں،وہ گھمنڈ میں ہیں جو کررہے ٹھیک کررہے ہیں، پاکستان کے عوام ان کی پالیسی سے مطمئن نہیں، آپ پارلیمان اور سیاسی جماعتوں کو آپ لونڈی بناکردیکھنا چاہتے ہیں، ہمارے سے زیادہ ذمہ داری ان کے اوپر ہے، ہم نے افغانستان کے ساتھ راستے کھولے آج اس پر پانی پھیرا جارہا ہے، آج چمن کے کیا حالات ہیں۔

متعلقہ خبریں