اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس گذشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا تھا جس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پی پی اراکین اسمبلی نے قیادت کے سامنے شکایات کے انبار لگادیے جب کہ بلاول بھٹو اجلاس میں شریک پارلیمنٹیرینز کی شکایات نوٹ کرتے رہے۔
پی پی اراکین نے کہا کہ اتحادی ہونے کے باوجود ن لیگ اہمیت نہیں دے رہی، ن لیگ دانستہ طور پر پیپلزپارٹی کو یکسر نظر انداز کر رہی ہے جب کہ حکومت کو ووٹ اورسپورٹ کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔
پی پی اراکین کا کہنا تھا کہ اتحادی ہونے کے باوجود وفاق اور پنجاب میں کام نہیں ہو رہے، پی ایس ڈی پی میں پیپلزپارٹی کی نئی اسکیمیں شامل نہیں کی گئیں جب کہ پی پی کی جاری ترقیاتی اسکیمیں بھی پی ایس ڈی پی سے نکال دی گئیں ہیں۔
پی پی ذرائع نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں بعض ارکان نے کابینہ میں شمولیت کی تجویز دی جب کہ بعض اراکین کی رائے تھی کہ پی پی حکومت کو ٹف ٹائم دے یا حکومت میں شامل ہو،حکومت کا حصہ بننے پر پیپلزپارٹی کو برابر کی اہمیت ملے گی۔
پی پی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب سے پارلیمنٹیرینز نے پنجاب حکومت کے معتصبانہ روئیے کی شکایات کی، پی پی اراکین نے کہا کہ پنجاب حکومت پیپلزپارٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے اور ن لیگ پنجاب میں تحریری معاہدے پر عملدرآمد نہیں کر رہی۔



















