لاہور ہائیکورٹ نے ہتک عزت قانون کو کالعدم قرار دلانے سے متعلق صحافیوں کی درخواست سماعت کیلئے مقررکردی۔
جسٹس امجد رفیق 14 جون کو کیس کی سماعت کریں گے۔ لاہورپریس کلب کے صدرارشد انصاری، ایمنڈ کےسیکرٹری طارق محمود نے ہتک عزت قانون کو چیلنج کیاہے۔
صحافیوں کے وکیل خواجہ طارق رحیم اوراظہرصدیق ایڈووکیٹ دلائل دیں گے۔
صحافیوں کی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ہتک عزت کالا قانون اورآئین سے متصادم ہے، اس قانون کی آڑ میں صحافیوں اور عام شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کیے جانے کاخدشہ ہے۔ آئین پاکستان شہریوں کے آزادی اظہارکوبنیادی حق تسلیم کرتاہے۔
ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا کہ آزادی اظہاررائے کے بغیر جمہوری معاشرے اور شہری آزادیوں کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ حکومت قانون کو اپنے سیاسی مقاصد کےلئے استعمال کرکے خود ملک میں افراتفری پیدا کرناچاہتی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ مہذب دنیا میں ایسے قانون کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پیمرا، پیکا قوانین اورجرنلسٹس پروٹیکشن ایکٹ کی موجودگی میں ہتک عزت قانون امتیازی سلوک ہے۔ آئین کے تحت کسی خاص طبقے کوٹارگٹ کرکے مخصوص قانون نہیں بنایا جا سکتا۔
درخواست میں یہ مؤقف بھی اپنایا گیا ہے کہ ہتک عزت قانون وفاق کاموضوع ہے اس کیلئے صوبے کو قانون سازی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ آئین پاکستان، ملکی قوانین اوراعلی عدلیہ کے فیصلے صحافیوں کو ذرائع نہ بتانےکا تحفظ دیتے ہیں۔ ہتک عزت قانون صحافیوں کے ذرائع آشکار کرنے کاپابند بناتا ہے جس سے ان کی زندگیاں داؤپرہیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی عدالت ہتک عزت قانون کو ماورائے آئین قرار دیتے ہوئے کالعدم کرے۔
