وزیر اعظم شہباز شریف اور پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو کے درمیان آج ہونے والی اہم ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے ملاقات میں بجٹ پر پیپلز پارٹی کو اعتماد میں نہ لینے کا معاملہ وزیر اعظم کے سامنے رکھ دیا، انہوں نے پارٹی کو بجٹ پر اعتماد میں نہ لینے پر سخت برہمی کا بھی اظہار کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو نے ملاقات میں وزیر اعظم کو کہا کہ پیپلز پارٹی نے ایک معاہدے کے تحت حکومت کی حمایت کی لیکن حکومت نے اس معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا۔
پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت، پنجاب میں پیپلز پارٹی کے راستوں کو مسدود کر رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بلاول بھٹو کے بیشتر نکات سے اتفاق کیا، اس حوالے سے معاملات حل کرنے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور حکومت کی کمیٹیاں کل ملاقات کریں گی، کمیٹیاں ملاقات کی روشنی میں معاملات کو آگے بڑھائیں گی۔
ذرائع کے مطابق کمیٹیاں ملاقات کی روشنی میں معاملات کو آگے بڑھائیں گی۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، پیپلزپارٹی بجٹ میں حکومت سے تعاون کرے گی اور فیصلہ کیا گیا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کو نہیں چھیڑا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے سندھ سے متعلق مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کے علاوہ پنجاب حکومت سے متعلق خدشات بھی دور کروانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔



















