Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

لاہور ہائیکورٹ: عدلیہ میں سول وملٹری ایجنسیوں کی مداخلت روکنے کیلئے ایس او پیز جاری

لاہور ہائیکورٹ نے عدلیہ میں سول وملٹری ایجنسیوں کی مداخلت روکنے کے لیے ایس او پیز جاری کر دیئے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے انسداد دہشتگردی سرگودھا کے جج کو ہراساں کرنے کے معاملے میں 4 صفحات پر مشتمل تحریری عبوری حکم جاری کر دیا۔

جسٹس شاہد کریم نے عدلیہ میں مداخلت روکنے کے لیے 5 نکاتی ایس او پیز جاری کیے، جس کہا گیا ہے کہ وزیراعظم آفس آئی ایس آئی اور آئی بی سمیت تمام سول و ملٹری ایجنسیوں کو ہدایت جاری کرے کہ ایجنسیاں مستقبل میں اعلیٰ اور ماتحت عدلیہ کے کسی جج یا ان کے عملے سے رابطہ نہ کریں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ آئی جی پنجاب بھی ماتحت افسروں کو عدلیہ میں مداخلت سے روکنے کی ہدایات جاری کریں، اے ٹی سی عدالتوں کی سیکیورٹی کے لیے متعلقہ جج سے مشاورت اور اتفاق رائے سے فیصلہ کیا جائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ انسداد دہشت گردی کے ججز اپنے موبائل میں ریکارڈنگ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور ہر کال ریکارڈ کریں، جب کہ پنجاب کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں 9 مئی کے کیسز کا ترجیحی بنیادوں پر فیصلہ کریں۔

جسٹس شاہد کریم نے حنا حفیظ اللہ کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے اے ٹی سی جج سرگودھا کے معاملے پر عدالتی عملے کو تفتیش میں مکمل تعاون کرنے کا بھی حکم دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو 8 جولائی تک عمل درآمد رپورٹ جمع کرانےکا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ 20 جون اس وقت کے چیف جسٹس شہزاد ملک لاہور ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ میں تقرری کے بعد ازخود نوٹس کیس کو جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں ارسال کردیا تھا۔

جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ڈی ایس پی سرگودھا، آر او سی ٹی ڈی سرگودھا، متعلقہ ایس ایچ او سرگودھا کو توہین عدالت کےشوکاز نوٹسز بھی جاری کردیے تھے۔

اس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کے خطوط پر از خود نوٹس لیا تھا، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ آئی ایس آئی کے افسر نے ان سے ملنے کی درخواست کی تھی۔

متعلقہ خبریں