Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان کی تاریخ کا بدنام ترین وفاقی بجٹ پیش کیا گیا ہے، مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا بدنام ترین وفاقی بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس آج کے معاشی لحاظ سے بہت اہم ہے، خیبرپختونخوا حکومت کے پہلے 100 دن کی کارکردگی کا جائزہ پیش کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ کل ہمارا وفاقی بجٹ پاس ہوا، یہ پاکستان کی تاریخ کا بدنام ترین بجٹ تھا، اس بجٹ کے اثرات پر بھی گفتگو کروں گا۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت پر الزام لگتا تھا کہ اگر وفاق میں ان کی حکومت نہ ہو تو یہ پرفارم نہیں کرتے، آئی ایم ایف نے اس سال 95 ارب روپے کا ٹارگٹ خیبرپختونخوا کے لیے رکھا تھا، ہم یہ ٹارگٹ حاصل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بتایا کہ صوبے کا بجٹ صوبے نے پیش کرنا ہے، ہم نے وفاق سے 3 ہفتے قبل بجٹ پاس کیا، ہمارے صوبے کے بارے میں کہا گیا کہ صوبہ بینک کرپٹ ہے، خیبرپختونخوا کے اپنی آمدنی کا سرپلس دیا۔

مزمل اسلم نے کہا کہ پینشن کا بل بڑھتا جارہا ہے، ہم نے اس سال 20 ارب روپے بچا کر پینشن فنڈ کے لیے مختص کردیا ہے، ہم نے لاء اینڈ آرڈر صورتحال سے نمٹنے کے لیے آتے ہیں 7 ارب مختص کیے، رمضان میں ہم نے پورے صوبے میں 10 ہزار روپے فی خاندان دیے، جب کہ پنجاب نے 3 ہزار اور سندھ نے 5 ہزار دہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے احسان روزگار ، احسان ہنر جیسے پروگرام کے لیے ہم نے 15 ارب روپے رکھے، تاریخ میں پہلی مرتبہ خیبرپختونخوا اس سال صوبے میں 5 ہزار گھر بنائے گا، ہم نے 20 ارب روپے کہ گندم خریدی اور 3 لاکھ ٹن گندم ہمارے پاس ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم 1 لاکھ لوگوں کو 2 کے وی اے کے سولر لگا کر دیں گے، اس میں کیٹیگری بنائیں گے، جو غریب ہیں ان کو مفت دیا جائے گا، عید کی چھٹیوں سے پہلے ہم نے ٹی ایم ایز اور میونسپل کو 90 کڑوڑ جاری کیے۔

انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 جی طرح ایک اور ہیلپ لائن ” سہل ” متعارف کروائی ہے، صحت کارڈ کو دوبارا شروع کیا ہے، 2 لاکھ 58 ہزار 909 لوگوں کا علاج صحت کارڈ کے زریعے ہوچکا ہے، اس پہ 6 ارب روپے سے زائد خرچ ہوئے، ہم 3 مہینے میں 2 ارب روپے سے زائد کی دوائیاں بانٹ چکے ہیں، فری لیب بنارہے ہیں۔

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ لوگ بجلی کے بلوں سے پریشان ہیں، پاکستان کی سستی ترین بجلی خیبرپختونخوا پیدا کرے گا، ہم ایک بجلی کی فراہم کرنے والی کمپنی بنائیں گے، اس سے ہمیں بجلی فی یونٹ 6 روپے پڑے گا، حکومت ہمیں 62 روپے کا یونٹ دیتی ہے، ہم نے اپنے وسائل سے بجلی بنائی ہے، اس سے 6 روپے کا یونٹ پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق ہمیں آہستہ آہستہ کرکہ پیسے دے رہا ہے، ہم 4000 ارب روپے تعلیم ہر خرچ کرتے ہیں، ہم سالانہ 14 سرب روپے کی کتاب اور ٹیکسٹ بک چھاپ کر دیتے ہیں، اس سال ہم نے 4 ارب روپے کی کتابیں ری سائیکل کی ہیں، ہم نے 28 ارب روپے آسٹیریٹی سے بچائے ہیں۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم نے تعلیم کے لیے ورلڈ بینک کے ساتھ ایک پراجیکٹ شروع کیا ہے، اس سے معلوم ہوگا کہ بجٹ پورے صوبے میں ہر سکول میں جارہاہے کہ نہیں، تعلیمی بجٹ میں زیادہ تر پیشے سکول بننے اور ٹیچرز کی فیسوں میں خرچ ہوتے ہیں، نئی پالیسی کے تحت کرائے پر زمین لیں اور سکول شروع کریں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 500 غیر فعال سکیموں کو وزیر اعلیٰ نے خود بیٹھ کر ختم کیں، ہم نے تمباکو ، منرلز اور مائنز پر ٹیکس لگایا، جہاں سے ٹیکس اکھٹا ہوسکتا تھا وہاں سے اکھٹا کرکہ عوام پر خرچ کریں گے، خیبرپختونخوا میں پورے پاکستان کے 45 فیصد جنگلات پائے جاتے ہیں، کاربن منصوبے شروع کیے جاچکے ہیں۔

وفاقی بجٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ 15 ہزار روپے کمانے والوں کا 30 فیصد تک ٹیکس بڑھ گیا، سالانہ ایک کروڑ تنخواہ کمانے والوں پر 10 فیصد اضافی ٹیکس لگادیا، ایک کروڑ سے اوپر کمانے والوں پر 10 فیصد سرچارج لگا دیا۔

مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ دودھ پرٹیکس، ڈیری مصنوعات پر ٹیکس، ادویات پر بھی ٹیکس لگادیا، وفاقی حکومت پنش کی مد میں 1 ہزار ارب سے زیادہ اداکرے گی، وفاق نے 25 فیصد تنخواہیں بڑھادیں اور ٹیکس کا بوجھ ڈال دیا، خیبر پختونخوا حکومت نے پراپرٹی پر ٹیکس آدھا کردیا، جب کہ اس کی نسبت وفاق نے گھر خریدینے پر 23 فیصد ٹیکس لگا رکھا ہے، گاڑیاں اور پٹرول مہنگا کردیا،، بیرون جانے والوں پر بھی ٹیکس لگ دیا۔

متعلقہ خبریں