جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا ہے کہ سائلین کوتاریخ پرتاریخ دیتے رہیں تو ان کا کیا ہوگا؟
جسٹس طارق محمود نے خطاب میں کہا کہ وکلا کو اپنے کیسزکی پیروی کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ آناچاہیے، ججزکو نوجوان وکلا کی اپنے بچوں کی طرح اصلاح کرنی چاہیے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے ہمارا لکھا ہوا کاغذ سپریم کورٹ جائے گا، یہ بھی علم ہے سپریم کورٹ کے 3 ججز اس کا جائزہ لیں گے، پاکستان کے 80 فیصد لوگ عدالتوں میں پہنچ ہی نہیں سکتے۔
جسٹس طارق محمودنے کہا کہ سائلین کوتاریخ پرتاریخ دیتے رہیں تو ان کا کیا ہوگا؟ بارایسوسی ایشن کاکوئی کام بارکا نہیں بلکہ ہمارا کام ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسلام آبادہائیکورٹ میں پورے ملک کی ترجمانی ہوتی ہے، کیسزکوہینڈل کرنے کے بہت طریقےہیں۔
جسٹس طارق محمودجہانگیری نے خطاب میں مزید کہا کہ 8 فروری 2021 واقعہ سے بار، بنچ میں خلا آ گیا تھا، ہم بھی بار سے ہیں، کوشش ہے بارکے مسائل پربات اوران کاحل ہو.



















