اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسرائیل پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا کوئی اثر نہیں ہورہا، جب بھی کوئی نئی قرارداد پاس ہوتی ہے تو اسرائیل اتنا ہی زیادہ ظلم کرتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی کابینہ نے پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان ایم او یو پر دستخط کی منظوری دی۔
علاوہ ازیں وفاقی کابینہ نے ایس ای سی پی ایکٹ 1997 کے تحت خصوصی عدالتوں کے قیام، نجکاری کمیشن کے بورڈ کے اراکین کی تعداد میں اضافے اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین کی تعیناتی کی بھی منظوری دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ فلسطین میں تباہی مچی ہوئی ہے، انسانیت سوز مظالم ڈھایا جارہا ہے، فلسطین میں اسرائیل کے مظالم میں ہزاروں بچے شہید ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ فلسطین میں اتنے بدترین ظلم کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی، سیکیورٹی کونسل نےغزہ کے مسئلے پر قراردادیں پاس کی ہیں جب کہ عالمی عدالت نے بھی واضح کہا ہے کہ یہ تاریخ کا بدترین ظلم ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فلسطین میں تقریباً 40 ہزار بہن بھائی شہید ہوچکے ہیں، اسرائیلی حکومت پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا کوئی اثر نہیں ہورہا اور جب بھی کوئی نئی قرارداد پاس ہوتی ہے تو اسرائیل اتنا ہی زیادہ ظلم کرتا ہے۔
وزیراعظم کہتے ہیں کہ ہیگ کی کورٹ نے جو فیصلہ دیا اس میں پاکستان نے بھی حصہ ڈالا ہے، بعض سفارتخانوں پرحملے کیے گئے ، جرمنی اور لندن میں بھی حملےہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بہت ہی افسوسناک واقعات ہیں جس کا وزیرخارجہ نے نوٹس لیا ہے، اپنے سفارتخانوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہمارا فرض ہے، متعلقہ ممالک کے سفیروں کو بلاکر ہمیں ڈیمارش کرنا چاہیے۔



















