پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ عالمی اداروں کے ساتھ معاہدہ ہے کہ مزید سبسڈی نہیں دینی۔
بول نیوز کے پروگرام تجزیہ میں اینکر ارباب جہانگیر کے ساتھ خصوصی گفتگو میں قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ لیگل ٹیم دیکھ رہی ہے کہ آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے ہو رہا ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس کٹوتی بھی سبسڈی کے زمرے میں آ جائے گی، وزیراعظم کو اس کی سیاسی قیمت کا معلوم ہے، حکومت کومعلوم ہے کہ لوگوں کے حالات کیا ہیں۔
قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں پر جلد خوشخبری دیں گے، اگر حکومت دباؤ میں آ کر سبسڈی دے بھی دے تو آئی ایم ایف معاہدہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں ہوا تو ملک ڈیفالٹ کی کیفیت میں چلا جائے گا، ڈالر کی قیمت آسمان پر چلی جائے گی اور اگر ڈالر 400 کا ہو گیا تو بجلی کی قیمت کتنی ہو جائے گی؟۔
ان کا کہنا تھا کہ مطالبہ کرنے میں کچھ جاتا نہیں ہے لیکن اس کی قیمت لگتی ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہو رہی ہے، تجاویز دیں میں حکومت کو راضی کروں گا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ دیکھنا یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی اپوزیشن کو کس طرح ڈیل کرتے تھے؟ بانی پی ٹی آئی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کیسز ہیں، بیٹھ کر بات کرنے کیلئے بانی پی ٹی آئی تیار نہیں ہیں۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اپنے مسائل حل کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں کہ صرف فوج سے بات کرنی ہے، کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کے حق میں نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ کسی اور نام سے جماعت بنا لیں گے، بلے کا نشان چھین لینے سے تحریک ختم ہو گئی؟ کیا پی ٹی آئی کے لوگوں نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا؟
رہنما پیپلز پارٹی قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ کسی سیاسی جماعت پر پابندی سپریم کورٹ کے ریفرنس کے ذریعے لگ سکتی ہے۔



















