Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایس آئی ایف سی کے تعاون سے مائع شدہ پٹرولیم گیس پلانٹ کے لیے اہم پیشرفت

ایس آئی ایف سی کی جانب سے پٹرولیم ڈویژن کو جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ کے ساتھ معاہدے کے تحت مائع شدہ پیٹرولیم گیس پلانٹ پر دوبارہ کام شروع کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت جاری۔ 

جام شورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ (جے جے وی ایل) ایک معاہدے کے تحت 2005ء سے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) کی ٹرانسمیشن پائپ لائن سے مائع شدہ پٹرولیم گیس اورقدرتی گیس اخذ کرنے کی مجاز تھی۔

اس شراکت داری کا مقصد مقامی ایل پی جی کی پیداوار کو بڑھا کر اور درآمدات پر انحصار کو کم کرکے اقتصادی استحکام کویقینی بنانا تھا۔ دونوں کمپنیوں کے مابین پروسیسنگ چارجز کی وصولی پراختلاف کے باعث یہ معاہدہ 2018ء میں معطل ہو گیا تھا۔

ایس آئی ایف سی کی معاونت کے باعث دونوں کمپنیاں منصفانہ ریوینیو شیئرنگ فارمولے پر متفق ہو گئی ہیں۔ ایس ایس جی سی ماضی میں بھی مختلف آپریشنل ماڈلز کے تحت جے جے وی ایل کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے باعث 110 ملین ڈالرسے زیادہ منافع حاصل کرچکی ہے۔

ایس ایس جی سی فی الحال 170,137 میٹرک ٹن سالانہ ایل پی جی درآمد کرتی ہے جس کی لاگت تقریباً 107 ملین ڈالر ہے۔ جے جے وی ایل سے سالانہ ایل پی جی پیداوار کا تخمینہ 91,250 میٹرک ٹن ہے جس کی بدولت ممکنہ آمدنی میں 7 ملین ڈالر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

جے جے وی ایل سے حاصل کی گئی پیداوار سے ایس ایس جی سی کی موجودہ درآمدات میں تقریباً 53 فیصد تک کمی آسکتی ہے، جس سے درآمدات میں سالانہ تقریباً 57 ملین ڈالر کی کمی ہوگی۔

ایس آئی ایف سی کے تعاون سےایل پی جی پلانٹ کو دوبارہ شروع کرکے درآمدات میں کمی اورسالانہ اربوں روپے کی بچت سے ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں