Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی نے جسٹس منصور علی شاہ کے خط کا جواب دے دیا

سپریم کورٹ پریکٹس پروسیجرکمیٹی کے معاملے پرچیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسی نے جسٹس منصورعلی شاہ کے خط کا جواب دے دیا۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس منصورعلی شاہ نے پریکٹس پروسیجر کمیٹی اجلاس میں شرکت سے انکار کیا۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے خط لکھ کر صدارتی آرڈیننس پرتحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ کے خط پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جوابی خط لکھا ہے۔ انہوں نے جسٹس منیب اختر کو کمیٹی میں شامل نہ کرنے کی 11 وجوہات بتائی ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان کے خط کا متن

چیف جسٹس نے جوابی خط میں لکھا کہ جسٹس منصورعلی شاہ قانونی طورپرآپ یہ بھی نہیں پوچھ سکتے کہ میں کمیٹی کے تیسرے رکن کے طور پر کس کو نامزد کروں کسے نہ کروں۔ تاہم، چونکہ میں ہمیشہ احتساب اور شفافیت کی حمایت کرتا رہا ہوں، میں وجوہات فراہم کروں گا کہ جسٹس منیب اختر کو کیوں تبدیل کیا گیا۔

چیف جسٹس کے خط کے متن کے مطابق یہ یاد رہے کہ میں یہ آپ کے اصرار پرکررہا ہوں، تاکہ کوئی ناراض نہ ہو جائے، جسٹس منیب اخترنے پریکیٹس اینڈ پروسیجرقانون کی سخت مخالفت کی تھی۔ جسٹس منیب ان دو ججوں میں سے ایک تھے جنہوں نے مقدمات کے بوجھ سے لاپرواہ ہو کر گرمیوں کی پوری تعطیلات کیں۔

خط کےمتن کے مطابق جسٹس منیب تعطیلات کے دوران وہ عدالت کا کام کرنے کے لیے دستیاب نہیں تھے، تعطیلات پرہونے کے باوجود وہ کمیٹی میٹنگزمیں شرکت پراصرارکیا جو کہ اگلے سینیئرجج جسٹس یحییٰ پران کا عدم اعتماد ظاہرکرتا ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کہتا ہے کہ ارجنٹ مقدمات 14 روزمیں سماعت کے لیے مقرر ہوں گے۔

چیف جسٹس پاکستان نے جوابی خط میں کہا کہ جسٹس منیب اختر نے درخواست گزاروں کے آئینی اور قانونی حق کے برخلاف ارجنٹ آئینی مقدمات سننے سے انکار کیا اورچھٹیوں کو فوقیت دی ۔ سپریم کورٹ کی روایت کے برعکس اپنے سینئرججوں (ایڈہاک ججز) کا احترام نہ کیا، سینئر ججز (ایڈہاک ججز) کو ایسے1100 مقدمات کی سماعت تک ہی محدود کر دیا۔ ایڈہاک ججزکو شریعت ایپلٹ بینچ کے مقدمات بھی سننے نہیں دیے گئے۔

جوابی خط میں انھوں نے کہا کہ جسٹس منیب اخترنے کمیٹی کے ایک معزز رکن سے غیرشائستہ درشت اورنامناسب رویہ اختیارکیاجس میں تمام چیف جسٹسز شامل تھے اورسینرترین جج بھی حصہ تھے۔ جسٹس منیب اختر محض عبوری حکم جاری کرکے گیارہ بجے تک کام کرتے ہیں،  جسٹس منیب اخترکے ساتھی ججوں نے ان کے اس رویے کی شکایت کی، آڈیو لیک کیس پرحکم امتناع جاری کرکے وہ کیس سماعت کے لیے مقرر ہی نہ کرنے دیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس شاہ آپ نے حقائق جانے بغیر الزام عائد کیا کہ میں نے جسٹس یحییٰ آفریدی دوسرے سینئر جج کو بائی پاس کیا، جسٹس آفریدی کو اگر کوئی ججز کمیٹی کا رکن نہیں بنانا چاہتا تو وہ جسٹس منیب اختر ہیں، اس بات کا ذکر خط کی ابتدا میں ان گیارہ وجوہات میں بیان کر چکا ہوں، 20ستمبرکو کمیٹی کے اجلاس کے بارے جسٹس یحییٰ آفریدی سے رابطہ کی کوشش کی گئی۔

خط میں کہا گیا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی جمعہ کو اس وقت دستیاب نہیں تھے، جسٹس یحییٰ کی عدم دستیابی پر جسٹس امین الدین خان سے درخواست کی تو انہوں نے اپنی لاہور روانگی ملتوی کردی۔ جسٹس منصورعلی شاہ آپ نے کمیٹی میں عدم شرکت کے لیے چیف جسٹس آفس کو مطلع نہیں کیا۔  جسٹس منصورعلی شاہ آپ نے رجسٹرارکو کہا کہ آپ کی کوئی اورمصروفیت ہے کمیٹی اجلاس میں شریک نہیں ہو سکتے۔ جسٹس منصورعلی شاہ آپ کی عدم شرکت کے باعث کمیٹی کا جمعہ کا اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔

جوابی خط کے متن کے مطابق دو دن بعد جسٹس منصورعلی شاہ آپ نے لکھا کہ کمیٹی میں اس وقت تک شرکت نہیں کریں گے جب تک کہ آپ کے الٹی میٹم پرعمل نہیں ہوتا، تاہم گزشتہ روزجسٹس منصورعلی شاہ آپ کی موجودگی میں آپ کے سامنے جسٹس یحییٰ آفریدی سے کمیٹی میں شرکت کے لیے کہا، جسٹس آفریدی نے کہا کہ میں ججز کمیٹی میں نہیں بیٹھنا چاہتا۔

متعلقہ خبریں