سندھ ہائی کورٹ نے ڈی جی پرائیویٹ اسکولز کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری اسکولوں اور نجی اسکول سے رابطہ کریں اور دس فیصد بچوں کی مفت تعلیم یقینی بنائیں۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں کورونا وبا کے دوران تعلیم جاری رکھنے کے لیے اقدامات اٹھانے کے معاملے پرنجی اسکولوں کی محکمہ تعلیم کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ ڈی جی پرائیویٹ اسکولز نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔
ڈی جی پرایئویٹ اسکولزنے رپورٹ میں بتایا کہ درخواست گزاروں میں کچھ اسکول 10 فیصد بچوں کو مفت تعلیم دینے کے قانون پرعمل کررہے ہیں، کچھ اسکول جزوی طورپراورکچھ اسکول قانون پرعمل نہیں کررہے۔
عدالت نے کہا کہ جواسکول قانون پرعمل نہیں کررہے انکی رجسٹریشن منسوخ کریں۔ ڈی جی پرائیویٹ اسکولزنے جواب دیا کہ درخواست گزار کی رجسٹریشن کی مدت پوری ہوچکی ہے۔
عدالت نے استفسارکیا کہ چھبیس ہزار ماہانہ فیس لینے والے اسکول کے خلاف کارروائی کی؟ ڈی جی نے جواب دیا کہ ہم نے خط لکھے ہیں اور اخبار میں نوٹس بھی شائع کیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ اخبار میں نوٹس دینے کا کیا فائدہ ہے؟ آپ نے کتنے بچوں کو اسکولوں میں ایڈجسٹ کروایا ؟ آپ نے کچھ نہیں کیا، آپ کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے، سب اشرافیہ ملے ہوئے ہیں، نہ آپ کا کوئی کردارہے اور نہ اسکولوں کا، نرسری کی فیس ستائیس ہزار روپے ہے، ڈی جی اسکول کے پاس کوئی نظام ہونا چاہیئے جہاں یتیم بچے رابطہ کرسکیں۔ یا اسکول سالانہ بنیاد پراعلان کریں اورمستحق بچوں کو داخلے دیں۔
عدالت نے ڈی جی پرائیویٹ اسکولز کو ہدایت کی کہ سرکاری اسکولوں اور نجی اسکول سے رابطہ کریں اور دس فیصد بچوں کی مفت تعلیم یقینی بنائیں، آپ کے پاس کیا اختیارات ہیں؟
ڈی جی پرائیکوٹ اسکولزنےجواب دیا کہ احکامات پرعملدرآمد نا کرنے پر رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیارہے، اس پرعدالت نے کہا کہ رجسٹریشن منسوخ کرکے آپ اپنے معاملات سیدھے کرتے ہیں اوراسکول اپنے، درخواست گزار اسکولوں کے تمام پرنسپل کو توہین عدالت کے نوٹس کررہے ہیں۔
وکیل درخواست گزارنے استدعا کی کہ تعلیمی سال کا آغاز ہوگیا ہے کچھ وقت دیں، اس پرعدالت نے کہا کہ ایک ماہ ہوا ہے تعلیمی سال شروع ہوئے، قانون کی خلاف ورزی پرعدالت آئے ہیں خود قانون پرعمل نہیں کرتے، تمام پرنسپل تین روز میں جواب جمع کروائیں، ہم آج ہی درخواست پر آرڈر جاری کریں گے۔
