Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

احتجاج کے حق کی آڑ میں انتشاری بلوائیوں کا دار الحکومت پر دھاوا، ہوشربا حقائق منظرِ عام پر

احتجاج کے حق کی آڑمیں انتشاری بلوائیوں کا دارالحکومت پردھاوا، سیاسی جماعت کے مارچ کی آڑمیں بلوائیوں کی پر تشدد کارروائیوں کی فوٹیج اور ہوشروبا حقائق منظرِعام پرآ گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی پھیلانے کی نیت سے خیبرپختونخوا سے آنے والے شرپسندوں نے تمام قانونی حدود پھلانگتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر پُرتشدد حملے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔

ذرائع کے مطابق بلوائیوں کی جانب سے عوام کی حفاظت پر مامور سرکاری اہلکاروں اور پولیس پر مختلف مقامات پر حملے کیے گئے، ان پر تشدد حملوں میں ایک پولیس اہلکارشہید اور70 سے زائد اہلکارزخمی ہوئے۔

ذرائع نے بتایا کہ سیاسی جماعت کے بلوائیوں کا پُرتشدد احتجاج ایک پولیس اہلکار کی جان لے گیا، ‏شرپسند عناصر پولیس کنسٹیبل عبدالحمید شاہ کو اغوا کے بعد تشدد کرتے رہے، ‏عبدالحمید شاہ اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق ‏شہید عبدالحمید 26 نمبرچونگی پرلا اینڈ آرڈر ڈیوٹی پر تعینات تھے، پُرتشدد ہنگاموں میں پولیس کی گاڑیوں اورسرکاری املاک کو آگ بھی لگائی گئی، اسلام آباد لائے جانے والے بلوائیوں اورشرپسندوں سے بڑی تعداد میں آنسو گیس شیل، ماسکس، غلیل ،کنچے اورپتھربھی برآمد ہوئے۔

ذرائع نے بتایا کہ ان شر پسندوں نےسرکاری املاک کو نقصان بھی پہنچایا اورسیکیورٹی اہلکاروں کیخلاف اسلحہ کا استعمال کیا، خیبرپختونخوا پولیس کے اہلکاروں کوسول کپڑوں میں مظاہرین کی آڑ میں لا کر اسلام آباد پر دھاوے کے لیے استعمال کیا گیا، شرپسندی میں ملوث خیبرپختونخوا پولیس کے سول کپڑوں میں ملبوس بائیس اورسی ٹی ڈی کے دو اہلکاروں کو پکڑا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پولیس اہلکار پرتشدد کارروائیوں میں حصہ لیتے ہوئے یا لینے کے بعد راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے پکڑے گئے، ہوش ربا طور پر اِن سول کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں سے بھاری مقدار میں آنسو گیس، پتھر، کنچے اور ڈنڈے، غلیلیں برآمد ہوئیں۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس ہی کا ایک سینئر پولیس آفیسر جو وزیراعلی کا منظورنظرہے، کی نگرانی میں ریسکیو 1122 کی گاڑیوں میں پشاورسے بھاری مقدارمیں آنسو گیس شیلز، آنسو گیس ماسک، کنچے، غلیلیں اور پتھرچھپا کر اسلام آباد لائے گئے۔ اسلام آباد پہنچنے کے بعد سارا تخریب کاری کا سامان شر پسندوں کے حوالے کیا گیا اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف استعمال کیا گیا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کے اہلکاروں پر حملے میں خیبر پختونخوا کے صوبائی وسائل کا بے دریغ استعمال بھی کیا گیا، جو ہر طرح کے ملکی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے، خیبرپختونخوا کی سرکاری گاڑیوں جن میں چھ ایمبولینس، ایک واٹر ٹینکر اور بارہ فائرٹینڈر کو بھی قبضے میں لیا جا چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق اب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 795 انتشار پسندوں کو گرفتار کیا جن میں 106 غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہری شامل ہیں، اس کے علاوہ 115 گاڑیوں کو بھی قبضے میں لیا گیا۔ گرفتارشدہ افراد سے بھاری تعداد میں غلیلیں، کنچے، ماسک، آنسو گیس شیل اور پتھربرآمد ہوئے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ایسے تمام عناصر جو ریاست پر دھاوا بولنے کے لیے استعمال کیے گئے ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، سرکاری عہدے، سرکاری وسائل اور سرکاری پولیس کا بے دریغ استعمال وہ بھی پر تشدد مقاصد کے لیے نہ صرف سرا سرقانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

ریاستی اداروں نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ شر پسندی میں ملوث ان تمام گرفتار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں