انٹراپارٹی الیکشن نظرثانی کیس میں پی ٹی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں لارجربینچ تشکیل دینے کی درخواست دائرکر دی گئی۔
پی ٹی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائردرخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ کیس میں آئینی تشریح کا نکتہ موجود ہے، پہلے کیس سنتے ہوئے بینچ نے یہ اعتراض غلط خارج کیا۔
درخواست میں پی ٹی آئی نے مؤقف اختیارکیا کہ آئینی اعتراض پرسماعت کیلئےاس بینچ کی تشکیل قانونی نہیں تھی، ای سی متاثرہ فریق بن کرپارٹی کےخلاف عدالت نہیں جاسکتاتھا۔
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے درخواست میں کہا گیا کہ 5 یا 8 ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دیا جائے۔
پی ٹی آئی نے درخواست میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کا بھی ذکرکرتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا کہ الیکشن کمیشن کے کنڈکٹ پر فیصلے آبزرویشنز موجود ہیں، لارجر بینچ بنا کر نظرثانی درخواست منظور کی جائے۔
