سینٹ میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 26 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ منظوری کے لیے پیش کیا، تجویز کردہ مسودے میں شامل ترامیم کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
مسودے میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں آئینی بینچ تشکیل دینے کی تجویز
جوڈیشل کمیشن آئینی بینچز اور ججز کی تعداد کا تعین کرے گا۔
آئینی بینچز کا سینیئر ترین جج پریزائڈنگ جج ہو گا
آئینی بینچز میں جہاں تک ممکن ہو تمام صوبوں سے مساوی ججز تعینات کیے جائیں گے۔
آرٹیکل 184 کے تحت از خود نوٹس کا اختیار آئینی بینچز کے پاس ہوگا۔
آرٹیکل 185 کے تحت آئین کی تشریح سے متعلق کیسز آئینی بینچز کے دائرہ اختیار میں آئیں گے۔
آرٹیکل 186 کے تحت ایڈوائزری اختیارات بھی آئینی بینچز کے ہوں گے
چیف جسٹس کا تقرر خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر کیا جائے گا۔
پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین ججز میں سے چیف جسٹس کا تقرر کرے گی۔
کمیٹی کی سفارش پر چیف جسٹس کا نام وزیراعظم صدر مملکت کو بھجوائیں گے۔
کسی جج کے انکار کی صورت میں اگلے سینیئر ترین جج کا نام زیر غور لایا جائے گا۔
چیف جسٹس کے تقرر کے لیے 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد پہلی مرتبہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے تین دن قبل نام بھجوایا جائے گا۔
بعد ازاں چیف جسٹس کے تقرر کے لیے پارلیمانی کمیٹی 14 روز قبل نام بھجوائے گی۔
پارلیمانی کمیٹی میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کی متناسب نمائندگی ہوگی۔
پارلیمانی کمیٹی میں 8 ارکان قومی اسمبلی چار ارکان سینٹ ہوں گے۔
چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت تین سال ہوگی۔
چیف جسٹس کے لیے عمر کی بالائی حد 65 سال مقرر کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
آرٹیکل 184 تین کے تحت سپریم کورٹ اپنے طور پر کوئی ہدایت یا ڈیکلریشن نہیں دے سکتی۔
آرٹیکل 186 اے کے تحت سپریم کورٹ ہائی کورٹ کے کسی بھی کیس کو کسی دوسری ہائی کورٹ یا اپنے پاس منتقل کر سکتی ہے۔
جوڈیشل کمیشن ہائی کورٹ کے ججز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لے گا۔
سپریم کورٹ کے ججز کا تقرر کمیشن کرے گا۔
چیف جسٹس کی زیر صدارت کمیشن میں آئینی بینچز کا پریزیڈنگ جج بھی ہوگا۔
کمیشن میں سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین ججز شامل ہوں گے۔
وفاقی وزیر قانون اٹارنی جنرل بھی کمیشن کے ارکان ہوں گے۔
کم سے کم 15 سال تجربے کا حامل پاکستان بار کونسل کا نامزد کردہ وکیل دو سال کے لیے کمیشن کا رکن ہوگا۔
دو ارکان قومی اسمبلی اور دو ارکان سینٹ کمیشن کا حصہ ہوں گے۔
سینٹ میں ٹیکنوکریٹ کی اہلیت کی حامل خاتون یا غیر مسلم کو بھی دو سال کے لیے کمیشن کا رکن بنایا جائے گا۔
مسودے میں آرٹیکل 38 میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے۔
یکم جنوری 2028 تک سود کا خاتمہ کیا جائے گا۔
آرٹیکل 48 میں ترمیم کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
وزیراعظم یا کابینہ کی جانب سے صدر مملکت کو بھجوائی گئی ایڈوائس پر کوئی عدالت، ٹریبیونل یا اتھارٹی سوال نہیں اٹھا سکتی۔
چیف الیکشن کمشنر یا رکن ریٹائرمنٹ کے بعد نئے تقرر تک کام جاری رکھے گا۔
آرٹیکل 63 اے میں مجوزہ ترمیم نکال دی گئی ہے۔



















