پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کی بل کی منظوری کے لیے ہمارے ووٹوں کی گنتی نہ کی جائے۔
مجوزہ آئینی ترمیم پر سینیٹ میں ہونے والی بحث کے دوران پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین قوم کو اکٹھا کرتا ہےاورعوام کی رضامندی سے بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رضامندی اور اتفاق رائے نہیں تو آئین اپنی موت مر جائے گا، آئینی ترمیم کے لئےاتفاق رائے بہت ضروری ہے، کچھ ساتھی آ نہیں سکتے ڈر ہے کہ پکڑے جائیں گے اور ان سے ووٹ لیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے آپ آج بل منظور کروا لیں، اگر زبردستی بل پر ووٹ لینا پڑے گا اس حوالے سے ایک دستاویز ہے، ہائیکورٹ کے اختیار کو بھی کئی معاملات میں ختم کیا جا رہا ہے۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ بانی سے مشاورت کے بغیر ہم کیسے آئینی ترمیم پر فیصلہ کر سکتے ہیں، کوشش کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت ہو جائے، ترمیم کے موجودہ عمل میں لوگوں کی رضامندی شامل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے خصوصی کمیٹی کے اجلاسوں میں کوئی تجویز نہیں دی، درخواست ہے ہمارے ووٹوں کی گنتی نہ کی جائے۔
رہنما پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین قوم کو اکٹھا کرتا ہے اور عوام کی رضامندی سے بنتا ہے، رضامندی اور اتفاق رائے نہیں تو آئین اپنی موت مر جائے گا، آئینی ترمیم کے لئے اتفاق رائے بہت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ زبردستی، زدوکوب اور لاپتہ کر کے ووٹ لینا رضامندی نہیں، یہ ساراعمل جرم ہے آئین اور اصولوں کے خلاف ہے، آئینی ترمیم میں ہم اس عمل کاحصہ نہیں بنیں گے۔
سینیٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ اراکین کے دستخط شدہ دستاویز پیش کر رہا ہوں، ان میں سے اگر کوئی ووٹ آتا ہے تو اسے شمار نہ کیا جائے۔



















