Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کراچی کے ساحل پر کھچوے کے بچوں کو سمندر میں چھوڑ دیا گیا

سندھ وائلڈ لائف نے کچھوے کے انڈوں سے نکلنے والے 300 بچوں کو سمندر میں چھوڑ دیا۔

کچھووں کے بچوں کی عمریں ایک سے دوروزکے لگ بھگ تھیں۔

انچارج میرین ٹرٹل کنزرویشن سندھ وائلڈ لائف اشفاق میمن کا کہنا ہے کہ رواں سال کے سیزن کے آغازسے اب تک 8 گرین ٹرٹلز کی مادہ کے 8 ہزار انڈوں کو گھونسلے میں رکھا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈوں سے بچے نکلنے کا دورانیہ 45 سے 60 دن پر محیط ہوتا ہے، افزائش نسل کے لیے آنے والے سبز کچھووں کی مادہ کو ٹیگز بھی لگائے جاتے ہیں۔

اس سال کچھووں کے انڈوں کا ہدف 30 ہزار انڈے رکھا گیا ہے، ایک مادہ 80 سے 110 کے قریب انڈے دیتی ہے، سن 1975 سے اب تک 9 لاکھ کے لگ بھگ کچھووں کے بچے سمندرمیں چھوڑے جا چکے ہیں۔

اشفاق میمن نے کہا کہ پاکستان میں مختلف وجوہات کی بنا کچھووں کی باقی اقسام معدوم ہوچکی ہیں، گرین ٹرٹل واحد قسم ہے جو سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں کا رخ کرتی ہیں۔

اشفاق میمن کا مزید کہنا تھا کہ گرین ٹرٹلز کی افزائش نسل کا دورانیہ اگست کے وسط سے فروری کے وسط تک برقرار رہتا ہے۔

متعلقہ خبریں