قائم مقام صدرسید یوسف رضا گیلانی نے صحافیوں کےخلاف جرائم پراستشنیٰ کے خاتمے کے عالمی دن پر پیغام میں کہا کہ صحافیوں کا تحفظ کیے بغیرآزادی ِصحافت کا تحفظ ممکن نہیں۔
چیئرمین سینیٹ وقائم مقام صدرسید یوسف رضا گیلانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ صحافی مشکل حالات بالخصوص تنازعات اورجنگوں کے دوران رپورٹنگ کرتے ہیں، پُرخطرحالات اوردوران جنگ صحافیوں کومختلف خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ صحافیوں کو سنسرشپ، تشدد، دھمکیوں اغوا اورقتل جیسے خطرے درپیش ہیں، جنگ زدہ علاقوں بالخصوص غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں صحافی قتل ہوئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں اب تک 130 سے زائد صحافی مارے جا چکے ہیں۔
چیئرمین سینیٹ و قائم مقام صدرنے اپنے پیغام میں کہا کہ اسرائیل نے میڈیا کے اداروں اورصحافیوں کو بڑے پیمانے پرنشانہ بنایا، عالمی برادری اسرائیل کو صحافیوں کے خلاف جرائم پر جوابدہ ٹھہرائے، پاکستان میں صحافیوں اورمیڈیا ورکرزکے تحفظ کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آئین پاکستان آزادی اظہارِرائے، آزادی صحافت اور معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے، پاکستان آزادی صحافت اور اظہارِرائے کی آزادی پرپختہ یقین رکھتا ہے، پاکستان میں جمہوریت کے استحکام، شفافیت کے فروغ کیلئے آزادی صحافت ناگزیرہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات سے جمہوریت کمزورہوتی ہے، پاکستان نے صحافیوں کے تحفظ کیلئے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کا ایکٹ 2021 پاس کیا، پاکستان میں صحافیوں کیلئے ہیلتھ انشورنس متعارف کرائی گئی ہے، پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کیلئے ابھی مزید اقدامات کرنا ہوں گے، صحافیوں کے تحفظ کیلئے مربوط حکمتِ عملی اورجامع نظام اپنانے کی ضرورت ہے۔



















