Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پی ٹی آئی کے احتجاج کے خلاف مزید مقدمات درج، مجموعی تعداد 10 تک پہنچ گئی

پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران نیا موڑ آ گیا، جہاں تھانہ نصیر آباد اور واہ صدر میں دو مزید مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ اس طرح احتجاج کے دوران درج ہونے والے مجموعی مقدمات کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔

یہ مقدمات انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں، جن میں اقدام قتل، کار سرکار مزاحمت اور تعزیرات پاکستان کی 14 مختلف دفعات شامل ہیں۔

ان مقدمات میں پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں بشمول پارٹی کے بانی، علیمہ خان، بشری بی بی، علی امین گنڈا پور، عمر ایوب، حماد اظہر، اسد قیصر، عارف علوی اور خورشید خان سمیت دیگر متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

مقدمات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے موٹروے ٹول پلازہ اور براہما پکٹ پر پولیس ٹیموں پر حملہ کیا، اشتعال انگیز نعرے بازی کی اور سڑکوں کو بلاک کرنے کے لیے ٹائروں کو آگ لگا دی۔

پولیس پر ڈنڈوں اور پتھراؤ کرتے ہوئے حملہ کیا گیا اور سرکاری موٹرولا وائرلیس سیٹ، ہیلمٹ اور دیگر سامان چھین لیا گیا۔

موقع سے مجموعی طور پر 140 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن سے موٹرولا وائرلیس سیٹ، آنسو گیس کے شیل، ڈنڈے، کنچے، غلیلیں اور اسلحہ برآمد کیا گیا۔ ملزمان کی زیر استعمال گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق، ملزمان نے پی ٹی آئی کے بانی کی ایماء پر غیرقانونی طور پر مجمع اکٹھا کیا اور سڑکوں کو بلاک کر کے شہریوں کی زندگیوں کو مفلوج کر دیا۔ انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج نے نہ صرف عوامی زندگی کو مشکلات میں ڈالا بلکہ سرکاری اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔

حکام نے مزید کہا کہ ایسی کارروائیاں قانون کے تحت سختی سے نمٹنے کے قابل ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یہ مقدمات پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں ہونے والے بڑے احتجاجی مظاہروں کے بعد درج کیے گئے ہیں، جو وفاقی دارالحکومت میں اہم اداروں اور حکومتی دفاتر کے گرد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا حصہ تھے۔

متعلقہ خبریں