Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

وزیراعظم کا ون واٹر سمٹ سے خطاب، آبی تحفظ اور ماحولیاتی چیلنجز پر زور

ریاض میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے “ون واٹر سمٹ” میں خطاب کرتے ہوئے عالمی سطح پر پانی کے تحفظ اور آبی وسائل کے مسائل پر تفصیل سے بات کی۔

وزیراعظم نے اجلاس کے بروقت انعقاد پر سعودی عرب، فرانس، قازقستان اور ورلڈ بینک کا شکریہ ادا کیا، اور پانی کے وسائل کی اہمیت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ زندگی کے لیے پانی کی فراہمی خطرے میں ہے اور دنیا کی نصف آبادی پانی کی کمی کے مسائل سے دوچار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 30 فیصد آبادی خشک سالی کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ ملک کے 70 فیصد علاقے بنجر اور نیم بنجر ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ عالمی سطح پر پانی کے مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ پانی کی حد بندیوں سے قوموں کے درمیان روابط اور ایکوسسٹم کی تشکیل ہوتی ہے، اور عالمی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو مستقبل میں بڑے چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔

پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پانی کے مسائل پر بات چیت کو ترجیح دی ہے اور سندھ طاس معاہدہ اس کی مثال ہے۔

پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات انتہائی سنگین ہیں، اور اس وقت پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو شدید ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہیں۔

انہوں نے پانی کے ذخائر کے تیزی سے کم ہونے، گلیشیئرز کے پگھلنے اور سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرات کی طرف بھی اشارہ کیا، اور کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے پاکستان کے آبی وسائل کو شدید نقصان پہنچایا اور لاکھوں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔

وزیراعظم نے اس موقع پر ’ریچارج پاکستان‘ پروگرام کا ذکر کیا، جس کا مقصد آبی نظام کی بحالی اور ماحولیاتی نظام پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی واٹر پالیسی پانی کے بہتر انتظام، واٹر شیڈ کے نظام کی بہتری اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے مرتب کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے عالمی سطح پر پانی کے مسائل کے حل کے لیے اجتماعی سوچ اور قیادت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مضبوط سیاسی عزم اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے۔

پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پانی سے متعلق تحقیق اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا عزم ہے کہ وہ دریاؤں، جھیلوں اور آبی ذخائر کا تحفظ یقینی بنائے گا، تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے پانی کے وسائل کو محفوظ رکھا جا سکے۔

متعلقہ خبریں