Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز وومن ونگ کی پریس کانفرنس، خواتین ڈاکٹرز کے مسائل اجاگر

ینگ ڈاکٹرز وومن ونگ کی جانب سے پریس کانفرنس میں بلوچستان میں ڈاکٹرز کو درپیش سنگین مسائل کو اجاگر کیا گیا۔

ڈاکٹر سہتی نوشیروانی نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ڈاکٹرز کو ایک عظیم طبقے کے طور پر جانا جاتا ہے، لیکن بلوچستان میں خواتین ڈاکٹرز کو بنیادی حقوق تک میسر نہیں ہیں۔

ڈاکٹر سہتی نوشیروانی نے کہا کہ ڈاکٹرز اپنی زندگی دوسروں کی جان بچانے کے لیے وقف کرتے ہیں۔

“انہوں نے کہا کہ ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے ڈاکٹرز کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن بلوچستان میں انہیں عزت دینا تو دور، تنخواہ تک بروقت فراہم نہیں کی جاتی۔”

ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز اپنی خدمات فراہم کرنے کے باوجود تنخواہوں کے لیے ترس رہے ہیں، دو سال کے انتظار کے بعد محض تین مہینے کی تنخواہ ملتی ہے۔

خواتین ڈاکٹرز کو درپیش رہائشی مشکلات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سہتی نے کہا کہ خواتین ڈٓاکٹرز کے لیے ہاسٹل کی سہولت نہیں ہے اور ہاسٹل میں مقیم ڈاکٹرز کو بھی مسلسل تنگ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے اسپتال انتظامیہ اور حکومتی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال انتظامیہ خود کو بے بس قرار دیتی ہے، جبکہ ہیلتھ منسٹر مسائل حل کرنے سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہیں۔

ڈاکٹر سہتی نوشیروانی نے کہا کہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹرز کے مسائل حل کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟،

پریس کانفرنس میں خواتین ڈاکٹرز نے اپنے مطالبات پیش کیے جو مندرجہ ذیل ہیں۔

تنخواہوں کی بروقت ادائیگی: پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کے بقایا جات فوری طور پر ادا کیے جائیں۔

خواتین ڈاکٹرز کی تعیناتی: ضلعی سطح پر 17 گریڈ کی پوسٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔

رہائشی سہولیات: خواتین ڈاکٹرز کے لیے ہاسٹل کی مناسب سہولیات فراہم کی جائیں۔

بقایا جات کی ادائیگی: سالوں سے التوا میں پڑے بقایا جات فوری طور پر دیے جائیں۔

ڈاکٹرز کو تنگ نہ کیا جائے: ہاسٹل میں رہائش پذیر خواتین ڈاکٹرز کو غیر ضروری مسائل سے بچایا جائے۔

ڈاکٹر سہتی نوشیروانی نے کہا کہ خواتین ڈاکٹرز اپنی خدمات جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، لیکن حکومتی اداروں اور انتظامیہ کی بے حسی ان کے حوصلے پست کر رہی ہے۔

انہوں نے حکام بالا سے فوری اقدامات کی اپیل کی تاکہ خواتین ڈاکٹرز اپنے فرائض سکون کے ساتھ انجام دے سکیں۔

متعلقہ خبریں