میئرکراچی کا کہنا ہے کہ خالق دینا ہال میں کوئی وال چاکنگ نہیں، اب یہاں نمائش اورادبی محافل ہونگی، بچوں کوتاریخی عمارتوں کا پتہ ہونا چائیے۔
کراچی میں خالق دینا ہال کی تزئین وآرائش اورافتتاح کے بعد میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی ورثہ کھو سا گیا تھا، اس کی دوبارہ تزئین و آرائش کی، آج یہاں کوئی وال چاکنگ نہیں، اب یہاں نمائش اورادبی محافل ہونگی، بچوں کوتاریخی عمارتوں کا پتہ ہونا چائیے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ آج بھی یہی جذبہ جواس وقت خالق دینا صاحب کا تھا کچھ شہریوں کا ہے۔ جنہوں نے اس پر کام کیا، نمائشی این جی او ہے جنہوں نےاس تاریخی ورثے کو بین الاقوامی طرزکا کام کرکے اسے بہترکیا، پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ بہترہوتی ہیں اس طرح کے منصوبے کے لیے۔
میئرکراچی نے کہا کہ آج یہاں کوئی وال چاکنگ نہیں کوئی سیاسی تصویر نہیں، پرانی لائٹس اوردرودیوار کو اصل حالت میں بحال کیا گیا ہے۔ اسے اب پبلک کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اب یہاں آرٹ نمائش، علم وادب کی محافلیں ہوں گی۔ آج دسمبر کی اتوارکی خوبصورت دوپہرہے۔ تاریخی ورثے پرہم نے بات کرنا چھوڑدی تھی۔
بیرسٹرمرتضٰی وہاب نے کہا کہ میں آج 1906 میں بننے والی خوبصورت عمارت خالق دینا ہال میں موجود ہوں، سوسائٹی اورسرکار کے درمیان برج کا کردارادا کرنے کی ضرورت ہے۔ عمارت کے اندر ہماری کوئی تصویرنہیں بلکہ شہریوں کےلئے خوبصورت بنایا ہے۔ چاہتے ہیں یہاں مشاعرہ اورنعت خوانی ہو۔
میئرکراچی نے کہا کہ چاہتے ہیں کراچی کے جوان یہاں آکراپنا ٹیلنٹ دکھائیں، موسیقی سےمحبت کرنےوالےادھرآئےاپناجوہردکھائیں، ایک سال قبل اس تاریخی عمارت کی کیا حالت تھی سب نے دیکھا تھا، 1906 میں یہ عمارت بنی تھی جسے اب ہم نے دوبارہ خوبصورت بنایا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہم کراچی والوں کو یہ شاندارمستقبل دیتے رہیں گے، نمائش کے نام سے ایک ادارہ ہے ان کا مدد کرنے پرشکریہ ادا کرتے ہیں۔



















