چیئرمین ایف بی آر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے اس سیکٹرکیلئے سخت ہدایات ہیں، شوگرسیکٹرکیلئے انٹیلی جینس بیوروسےمدد لے رہے ہیں، ہمارے اپنے لوگ بھی ملوں میں موجود بہت سے پکڑے بھی ہیں۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کیلئے کام ہوچکا اورہورہا ہے، تمام ادارے اس وقت ایف بی آرکے ساتھ مل کرکام کررہے ہیں۔
چیئرمین ایف بی آرنے کہا کہ کل ٹیکس گیپ 7.1 ٹریلین روپے کا ہے، ٹیکس کلیکشن کے حوالے سے ٹاپ پانچ فیصد پرہمارا فوکس ہے، ٹاپ فائیو کے 33 لاکھ میں چھ لاکھ لوگ ٹیکس فائل کرتے ہیں، ہم ان لوگوں کے ہدف بنائیں گےجو پیسے خرچ کرتے ہیں جن کے پاس پیسے ہیں۔
راشد محمودلنگڑیال نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے ایک لاکھ 90 ہزار افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، 1 لاکھ 90 ہزارمیں 38 ہزارافراد نے ٹیکس فائل کیا، 37 کروڑ روپے سے زیادہ 38 ہزارافراد نے ٹیکس کی رقم ادا کی۔
چیئرمین ایف بی آرنے کہا کہ ایک لاکھ 90 ہزار میں 1 لاکھ 69 ہزار کو نوٹسز جاری کیے گئے، انوائسنگ کو ڈیجیٹل کی طرف لے کرجانا ہے، انوائسنگ کے ساتھ کچھ یونٹس کی مانیٹرنگ بھی ضروری ہے، شوگرانڈسٹری میں دوسینسرلگائے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی سے کاؤنٹنگ بہت آسان ہوچکی ہے، شوگرسیکٹرمیں سمجھا جاتا ہے کہ بہت بڑا مسئلہ ہے، وزیراعظم کی جانب سے اس سیکٹرکیلئے سخت ہدایات ہیں، شوگرسیکٹرکیلئے انٹیلی جینس بیوروسےمدد لے رہے ہیں، ہمارے اپنے لوگ بھی ملوں میں موجود بہت سے پکڑے بھی ہیں۔



















