اپوزیشن لیڈرسندھ اسمبلی علی خورشیدی کراچی کے مسائل سے متعلق سندھ حکومت پربرس پڑے، کہا کہ کراچی والے خراب انفرا اسٹرکچر سے پریشان ہیں۔
کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈرعلی خورشیدی نے کہا کہ کراچی میں لوگ بے شمارمسائل کاشکارہیں، کراچی والے خراب انفرا اسٹرکچرسے پریشان ہیں، کراچی میں سڑکیں ہی نہیں، پانی کی کمی بھی ہے۔
علی خورشیدی نے کہا کہ لگتا ہے کراچی کے مسائل کوجان بوجھ کربڑھایاگیاہے، ریڈلائن سے جڑے بہت سے کام ہیں جوابھی شروع ہی نہیں ہوئے، پہلوان گوٹھ، صفوراچورنگی جانے والوں کومشکلات کاسامناہے۔
اپوزیشن لیڈرسندھ اسمبلی نے کہا کہ کراچی کے شہری کرب اورعذاب کی زندگی گزاررہےہیں، کراچی کےعوام کےٹیکس کےپیسےکا بےدریغ استعمال کیاگیا، ریڈلائن منصوبہ لوگوں کے لیےعذاب بن گیاہے۔
علی خورشیدی نے کہا کہ وزیرٹرانسپورٹ اورمیئرکراچی معافی مانگیں، جامعہ کراچی میں پورے شہرسے طالب علم آتے ہیں سب پریشان ہیں، ریڈلائن کی ڈیڈلائن2026کی بتائی گئی یہ جھوٹ ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ریڈلائن منصوبے کے راستےمیں 6 یونیورسٹیز، سیکڑوں اسکولزہیں، سندھ حکومت نے مستقبل کے معماروں کودھول چاٹنے پرلگا دیا ہے۔



















