ہنگور کلاس کی فلیگ شپ آبدوز کی رواں برس پاک بحریہ میں شمولیت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق پاک بحریہ میں جدید ترین ڈیزل الیکٹرک ہنگور کلاس آبدوزوں کی شمولیت کی تیاریاں جاری ہیں، پاکستان نیوی کی پہلی ہنگور کلاس سب میرین اپریل 2024 میں ووہان میں لانچ کی گئی تھی، پہلی ہنگور کلاس آبدوز لانچ کے بعد سی اینڈ ہاربر ٹرائلز کے مراحل سے گزر رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان نیوی کے عملے کی ہنگور کلاس آبدوز کے لئے ٹریننگ جاری ہے، پہلی ہنگور کے لانچ سے قبل پاکستان نیوی کے عملے نے پی ایل اے نیوی کی یوآن کلاس ٹائپ 039 آبدوز پر بھی ٹریننگ کی۔
علاوہ ازیں پاک بحریہ ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی معاہدے کے تحت چین سے 8 ہنگور کلاس آبدوزیں حاصل کر رہی ہے، 4 ہنگور کلاس آبدوزیں چائنہ شپ بلڈنگ کارپوریشن اور 4 کراچی شپ یارڈ اینڈ انجنیئرنگ ورکس میں تیار کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایئر انڈیپینڈنٹ پروپلشن سے لیس ہنگور کلاس آبدوزوں کی شمولیت سے پاک بحریہ کی زیر آب قوت میں زبردست اضافہ ہو گا، ہنگور کلاس آبدوزیں اینٹی شپ میزائلوں اور تارپیڈوز کے ساتھ بابر تھری کروز میزائل بھی لانچ کر سکتی ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بابر تھری کروز میزائل کو پاکستان کی سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت میں کلیدی حیثیت حاصل ہے، 2030 تک پاک بجریہ کے پاس ایئر انڈیپینڈنٹ پروپلشن سسٹم والی 13 ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں ہوں گی، تاہم پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی ایک بھی ڈیزل آبدوز اے آئی پی ٹیکنالوجی سے لیس نہیں۔















