مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری ٹیکس افسران کو لامحدود اختیارات دینے کے فیصلے کو معیشت دشمن قرار دیدیا ہے۔
کاشف چوہدری نے کہاہے کہ تاجر برادی انکم ٹیکس ترمیمی آرڈینس کو یکسر مسترد کرتی ہے، کرپشن کا بازار گرم کرنے کے لئے ٹیکس افسران کے اختیارات میں لامحدود اضافہ کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ملکی معیشت کو تباہ کرنے کے لئے ایسے اوچھے ہتھکنڈے کامیاب نہیں ہونے دیں گے، تاجروں کا اتحاد و اتفاق حکومت و ایف بی آر کو ایسے ظالمانہ اقدامات سے بازکرے گا۔
کاشف چوہدری نے کہاکہ قانونی کاررائی یا نوٹس کے بغیر کاروباری لوگوں کے اکاونٹس سے پیسہ نکلوانے کا اختیار دینا ڈاکوں راج کے مترادف ہے۔
صدرمرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاکہنا تھاکہ کچے کے ڈاکووں کے بعد پکے کے ڈاکووں نے تاجروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کی تیاری کر لی۔
کاشف چوہدری کا کہنا تھا کہ مارکیٹیوں اور کاروباری مقامات پر ٹیکس افسران کی تعیناتی نہیں ہونے دیں گے، کاروباری مقامات پر افسران کی تعیناتی کا اختیارکاروبار تباہ کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ تاجروں کو دیوار سے لگانے کی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے،حکومت کو فوری طور پر انکم ٹیکس ترمیمی آرڈینس واپس لینے کا الٹی میٹم دیتے ہیں ۔
تاجر برادری آئندہ کا لائحہ عمل جلد دے گی
کاشف چوہدری نے مزید کہاکہ حکومت نے ملک و تاجر دشمن ترمیمی آرڈیننس واپس نہ لیا تو تاجر برادری آئندہ کا لائحہ عمل دے گی، کسی نے تاجروں کے اکاونٹس منجمد کیے توسخت ردعمل دیں گے۔
ان کا کہناتھاکہ ایف بی ار میں کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لئے راتوں رات ترمیمی ارڈیننس لایا گیا،ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کے لئے ایف بی آر کو ٹاسک دیئے جاتے ہیں۔
صدرمرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے کہاکہ کاروبار کے لئے جتنی اسانیاں ہونگی اتنی معیشت پروان چڑھے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔



















