پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر میں امریکی کردار کامعترف ہونے کے بجائے مودی حکومت الٹا اس کی حوصلہ شکنی میں مصروف ہے جبکہ پاکستان نے امریکی کردارکوسراہاہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی کوششو ںے بھارت کو بڑی تباہی اور پاکستان کی مزید جوابی کارروائیوں سے بچا لیا اس کے باوجود مودی سرکار کا کردار محسن کش نظر آ رہا ہے۔
سی این این نے پاک بھارت جنگ کا خلاصہ اس طرح کیا
سی این این کے مطابق دونوں طرف سے بڑھتے حملوں نے سفارتی کوششوں کو تیز کیا ۔امریکا، چین، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے دباؤ کے بعد جنگ بندی ممکن ہوسکی تھی۔
پاکستان پر 6 اور 7 مئی کے بھارتی حملوں کے بعدپاکستان نے جوابی کارروائیوں کاآغاز کیا جس میں کئی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
سی این این کے مطابق بھارتی فوج کے ڈائریکٹرجنرل ملٹری آپریشنز،جنرل گھئی نے حملوں کے جواز میں بتایاکہ بھارت نے “دہشتگردی کے مراکز” پرحملے کیے اورپاکستان کوآگاہ کردیاہے۔
بھارتی حملوں کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی فوجی اڈوں پر حملے کیے جنہیں “آنکھ کے بدلے آنکھ” قرار دیا گیا۔
ان حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا جس پر امریکا،چین اورسعودی عرب جیسی عالمی قوتیں متحرک ہو گئیں۔
امریکاکے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پراعلان کیا کہ امریکا نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں کامیابی حاصل کی ہے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے اتوار کو اپنی پریس بریفنگ میں واضح کیاکہ جنگ بندی کی درخواست پاکستان نے نہیں کی یہ بھارتی خواہش تھی
انہوں نے بتایاکہ جوابی کارروائی کے بعدبین الاقوامی ثالثوں کی درخواست پر غور کیا گیا۔
پاکستان سیز فائر میں امریکی کردار کا معترف
سی این این کی رپورٹ میں اعتراف کیاگیاہے کہ سیز فائر کے بعدبھارت کی جانب سے یہ پیغام دیاگیاکہ جنگ بندی دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست بات چیت کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیاکہ دوسری جانب اسلام آباد نے امریکی کوششوں کو سراہا اورسفارتی حل پر اعتماد کا اظہار کیا۔
بھارت نے عام مقامات جبکہ پاکستان نے اہم عسکری اہداف کونشانہ بنایا،عالمی ماہرین
غیر جانبدار عالمی ماہرین کاکہنا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کی ابتدا پہلگام واقعے کے بعد 6 اور 7 مئی کو پاکستان میں بھارتی حملوں سے ہوئی اس کےلئے بھارت نے فوجی اہداف کے بجائے عام مقامات کونشانہ بنایا۔
دوسری جانب پاکستان نے حملے کےلئے بھارتی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ماہرین نے مطابق بھارت کی جانب سے عالمی برادری کو اپنے دعوؤں کے حق میں شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
پاکستان نے جوابی کارروائیوں میں عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے حوالے سے عالمی میڈیا کواسلام آباد میں مدعو کرکے ان کے سامنے چند شواہد اور دستاویز بھی پیش کیں۔
امریکی کردار سے انکاردلیل ہے کہ بھارتی کے جنگی عزائم کو شدیددھچکاپہنچا
سیز فائر کی کوششوں پر امریکا اور دیگر دوست ممالک اور امریکی کردار کو سراہنے کے بجائے بھارت کی جانب سے اس کی حوصلہ شکنی کی گئی۔
ماہرین کا کہناہے کہ بھارت کایہ عمل ظاہرکرتاہے کہ اسے اپنی جنگی عزائم میں شدیددھچکا پہنچاکیونکہ پاکستان کاردعمل اس کی توقع کے برعکس نکلا اوراندرونی طورپربھارت کوشدیدمخالفت کاسامناہے۔



















