وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے عالمی بینک کی مینجنگ ڈائریکٹر برائے آپریشنز، محترمہ اینا بیئرڈہ (Anna Bjerde) کی قیادت میں عالمی بینک کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔
ملاقات میں پاکستان میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، معاشی اصلاحات، اور کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیرِاعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور عالمی بینک کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک نے پاکستان کی ترقی میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ہم کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت 20 ارب ڈالر سے زائد کی ترقیاتی سرمایہ کاری پر شکر گزار ہیں،
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کا پاکستان کو ایک ارب ڈالرز کی اگلی قسط جاری کرنے کا فیصلہ
وزیرِاعظم نے زور دیا کہ حکومت عالمی بینک کی ترقیاتی سرمایہ کاری کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات یقینی بنا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے، اور اس مشکل وقت میں عالمی بینک کی جانب سے متاثرین کی امداد قابلِ قدر رہی۔
ایم ڈی عالمی بینک اینا بیئرڈہ نے پاکستانی قیادت کی جانب سے مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک پاکستان کے عوام کی خوشحالی کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ تاریخی شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے پاکستان کی حالیہ معاشی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام کے لیے مثبت اقدامات کے ذریعے ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت جنگ کے بجٹ پر اثرات، حکومت کا آئی ایم ایف کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ
وزیرِاعظم کی مؤثر قیادت اور عوامی ترقی کے عزم نے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کو ‘پاکستان ماڈل’ کے طور پر دنیا میں متعارف کروایا ہے، جو کہ دوسرے ممالک کے لیے قابل تقلید مثال بن چکا ہے۔
عالمی بینک کی مینجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کنٹری پارٹنرشپ کے مثبت نتائج کے حصول کے لیے تعاون جاری رکھنے کے خواہاں ہیں، اور اُمید ظاہر کی کہ وزیرِاعظم کا عملی اقدامات پر زور اس فریم ورک کو کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔
ملاقات میں پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بینحسین کے علاوہ وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، مشیرِ وزیرِاعظم ڈاکٹر توقیر شاہ، سینیٹر شیری رحمن، رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔



















