پاکستانی شہری برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے والوں میں سرفہرست، افغانستان دوسرے اور ایران تیسرے نمبر پر رہے۔
برطانیہ کے ہوم آفس کے مطابق، مارچ 2025 کے اختتام تک 11,048 پاکستانی شہریوں نے پناہ کے لیے درخواست دی، جو مجموعی طور پر 109,343 درخواستوں کا 10% سے زائد ہے۔
اس کے بعد افغانستان (8,069 درخواستیں) اور ایران (7,895 درخواستیں) کا نمبر آتا ہے ۔
پاکستانی درخواستوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 79% کا اضافہ ہوا ہے، جو کہ 10,542 درخواستوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستانی شہریوں کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اہم امور پر تعاون بڑھانے پر اتفاق
ہوم آفس نے بتایا ہے کہ 33% پناہ گزینوں نے برطانیہ میں داخلے کے لیے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے سمندر کا راستہ اختیار کیا ہے، جو غیر قانونی ہجرت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
ہوم سیکریٹری ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ ہم نے غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کے لیے امیگریشن انفورسمنٹ کو مضبوط کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امیگریشن وائٹ پیپر کے تحت ہم قوانین کو مزید سخت کریں گے تاکہ زیادہ غیر ملکی مجرموں کو واپس بھیجا جا سکے۔
پاکستانی شہریوں کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں اضافے کے پیش نظر، برطانوی حکومت نے ویزا کے قوانین میں سختی لانے کا عندیہ دیا ہے۔خصوصاً وہ افراد جو تعلیمی یا ورک ویزا پر برطانیہ آ کر بعد میں پناہ کی درخواست دیتے ہیں، ان پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ، غیر قانونی مشیران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور مصنوعی ذہانت (AI) کو پناہ کی درخواستوں کے فیصلوں کو تیز کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا ۔
یہ اقدامات برطانیہ کے پناہ گزینی کے نظام میں اصلاحات کی کوششوں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد غیر قانونی ہجرت کو روکنا اور پناہ گزینوں کے لیے ایک منظم اور شفاف طریقہ کار قائم کرنا ہے۔



















