بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف (CDS) جنرل انیل چوہان کے حالیہ انکشافات نے آپریشن سندور کے حوالے سے حکومت کی دفاعی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
جنرل چوہان نے بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آپریشن کے دوران ابتدائی طور پر بھارتی فضائیہ کے طیارے گرائے گئے، تاہم بعد ازاں حکمت عملی میں تبدیلی کے ذریعے پاکستان کے اندر اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے عوام کو آپریشن کی حقیقت سے آگاہ نہیں کیا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تاکہ قوم کو سچ بتایا جا سکے۔
اس کے علاوہ، کھڑگے نے کارگل ریویو کمیٹی کی طرز پر ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ دفاعی تیاریوں کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: پہلگام سے متعلق مودی کو پیشگی اطلاع مل گئی تھی،کانگریس صدر ارجن کھرگے
حکومت نے جنرل چوہان کے انکشافات پر فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ تاہم، حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کی تفصیلات قومی سلامتی کے مفاد میں ہیں اور ان پر مناسب وقت پر بات کی جائے گی۔
اس انکشاف کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ کانگریس نے حکومت سے جواب طلب کیا ہے کہ آیا امریکہ کی ثالثی پر جنگ بندی کی شرائط طے کی گئیں اور عوام کو کیوں اندھیرے میں رکھا گیا۔ یہ معاملہ دفاعی حکمت عملی کی شفافیت اور حکومت کی جوابدہی پر بحث کا باعث بن رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس معاملے پر وضاحت نہ دی تو یہ عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔ کانگریس کی جانب سے مطالبہ کیا گیا آزاد تحقیقاتی کمیٹی دفاعی تیاریوں اور حکومتی پالیسیوں کا جائزہ لینے کے لیے اہم قدم ہو سکتی ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے صدر ٹرمپ کی بار بار جنگ بندی پر ثالثی کی بات کو بھارتی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا مودی حکومت نے واقعی امریکا کے کہنے پر جنگ بندی قبول کی؟
انھوں نے کہا کہ مودی صرف مسلح افواج کی بہادری کا کریڈٹ لیتے ہیں، مگر پالیسی فیصلوں سے منہ موڑ لیتے ہیں، 140 کروڑ بھارتی شہریوں کو سیزفائر معاہدے کی تفصیلات جاننے کا پورا حق ہے۔



















