Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بھارت کے شمال مشرقی بارڈر پر جنگی حالات

بھارتی فوج کو میانمار بارڈر پر جھٹکے پر جھٹکے۔ آسام رائفلز پر تیسرا حملہ، کشمیر کی طرح یہاں بھی حقائق چھپائے جا رہے ہیں۔
بھارتی فوج کو میانمار بارڈر پر جھٹکے پر جھٹکے۔ آسام رائفلز پر تیسرا حملہ، کشمیر کی طرح یہاں بھی حقائق چھپائے جا رہے ہیں۔
کیا بھارت کے لیے میانمار کی سرحد  نیا کشمیر ثابت ہو رہی ہے ؟ سرحدی جنگ؟۔
.تین ہفتوں میں تیسرا حملہ، میانمار بارڈر پر خون، بارود اور خفیہ نقصانات،بھارتی فوج حقائق چھپا رہی
بھارت اور میانمار کے درمیان 1,643 کلومیٹر طویل غیر محفوظ اور کٹھن سرحدی پٹی ایک بار پھر خطرناک جنگی کشیدگی کا مرکز بن چکی ہے۔ اروناچل پردیش، منی پور، ناگالینڈ اور میزورم سے گزرتی یہ سرحد برسوں سے بھارت کی قومی سلامتی کے لیے ایک مستقل چیلنج رہی ہے، لیکن اب اس پر دوبارہ خون بہنے لگا ہے۔
بھارت کے شمال مشرقی بارڈر پر جنگی حالات

حالیہ جھڑپیں، حملے، ہلاکتیں اور خاموشی

جون کو اروناچل پردیش کے لانگڈنگ ضلع میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کا شدت پسندوں سے زبردست مقابلہ ہوا۔
بھاری ہتھیاروں سے لیس جنگجوؤں نے گھنے جنگلات کا سہارا لیتے ہوئے شدید فائرنگ کی اور بعد ازاں میانمار کی حدود میں فرار ہو گئے۔
6جون کو سرچ آپریشن کے دوران دو شدت پسند مارے گئے جن کا تعلق کالعدم تنظیم این ایس سی این (کے-وائی اے) سے بتایا گیاجو بھارت کے ساتھ سیزفائر معاہدے
سے انکاری ہے۔
یہ ایک ماہ میں تیسرا بڑا حملہ ہے
مئی 14 کو منی پور کے ضلع چندیل میں اسام رائفلز کے ساتھ جھڑپ میں 10 شدت پسند مارے گئے، بڑی مقدار میں اسلحہ برآمدہو
بھارت کے شمال مشرقی بارڈر پر جنگی حالات
 اپریل 27 کو لانگڈنگ میں جھڑپ، 3 شدت پسند ہلاک ہوئے۔
بھارتی فوج آسام رائفلز کے نقصانات پر خاموش نقصانات چھپائے جا رہے ہیں؟
حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارتی فوج نے اب تک اپنے نقصانات کی کوئی تصدیق نہیں کی۔
جبکہ مقامی میڈیا مکمل خاموش ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت جان بوجھ کر معلومات چھپا رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر ساکھ متاثر نہ ہو۔
 ماضی سے سبق نہیں سیکھا گیا؟
یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت کو میانمار سرحد پر خون بہانا پڑا ہو۔ جون 2015 میں منی پور کے ضلع چندیل میں عسکریت پسندوں نے بھارتی فوج کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا، جس میں 18 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔
 اس کے بعد بھارت نے پہلی بار اعلان کردہ طور پر میانمار کے اندر گھس کر عسکری کارروائی کی، جسے “سرجیکل اسٹرائیک” قرار دیا گیا۔
اربوں کا منصوبہ، لیکن زمین پر کچھ نہیں۔
ستمبر 2024 میں بھارتی حکومت نے کابینہ کی سیکیورٹی کمیٹی کے ذریعے 31,000 کروڑ روپے کے منصوبے کی منظوری دی، جس کا مقصد پورے سرحدی علاقے کو باڑ لگا کر محفوظ کرنا اور گشت کے لیے راستے بنانا تھا۔
لیکن آج تک یہ منصوبہ زیادہ تر کاغذوں میں دفن ہے۔
کیونکہ پہاڑی اور دشوار گزار علاقہ
مقامی آبادی کی مزاحمت۔میانمار سے سرگرم گروہوں جیسے پیپلز ڈیفنس فورس کے حملے
نئی لہر کا خطرناک چہرہ: NSCN (K-YA)
حالیہ جھڑپوں میں نمایاں نام نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالِم کے-وائی اے (NSCN-K-YA) ہے، جو نہ صرف سیزفائر معاہدے سے باہر ہے بلکہ میانمار کے اندر چھپ کر حملے کرنے میں ماہر ہے۔ یہ گروہ ماضی کی تمام مذاکراتی کوششوں کو مسترد کرتا آ رہا ہے اور اب بظاہر بھارت کے خلاف دوبارہ منظم کارروائیاں کر رہا ہے۔
اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے بھارتی فوج معصوم شہریوں کی ماورائے عدالت کلنگ کر رہی ہے۔ جو علاقے مین نفرت اور تشدد کو فروغ دے رہی ہے۔

نتیجہ یہ کہ بھارت ایک نئی “خاموش جنگ” میں داخل ہو چکا ہے

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بھارتی فوج اور حکومت نے میانمار سرحد پر سچ، شفافیت اور حکمت عملی کو اپنایا نہ تو یہ علاقہ ایک نئے کشمیر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
گھنے جنگلات، دلیر دشمن اور کمزور حکمت عملی کے ساتھ بھارتی فوج ایک ناکام لڑای میں مصروف ہے۔
کیا بھارت کے لیے میانمار کی سرحد  نیا کشمیر ثابت ہو رہی ہے ؟ سرحدی جنگ؟۔
تین ہفتوں میں تیسرا حملہ، میانمار بارڈر پر خون، بارود اور خفیہ نقصانات،بھارتی فوج حقائق چھپا رہی ہے!۔
بھارت اور میانمار کے درمیان 1,643 کلومیٹر طویل غیر محفوظ اور کٹھن سرحدی پٹی ایک بار پھر خطرناک جنگی کشیدگی کا مرکز بن چکی ہے۔ اروناچل پردیش، منی پور، ناگالینڈ اور میزورم سے گزرتی یہ سرحد برسوں سے بھارت کی قومی سلامتی کے لیے ایک مستقل چیلنج رہی ہے، لیکن اب اس پر دوبارہ خون بہنے لگا ہے۔
حالیہ جھڑپیں، حملے، ہلاکتیں اور خاموشی
جون کو اروناچل پردیش کے لانگڈنگ ضلع میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کا شدت پسندوں سے زبردست مقابلہ ہوا۔
بھاری ہتھیاروں سے لیس جنگجوؤں نے گھنے جنگلات کا سہارا لیتے ہوئے شدید فائرنگ کی اور بعد ازاں میانمار کی حدود میں فرار ہو گئے۔
6جون کو سرچ آپریشن کے دوران دو شدت پسند مارے گئے جن کا تعلق کالعدم تنظیم این ایس سی این (کے-وائی اے) سے بتایا گیاجو بھارت کے ساتھ سیزفائر معاہدے سے انکاری ہے۔

متعلقہ خبریں