صحافی خاور حسین کی موت کے حوالے سے ابتدائی تفتیشی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جو آج محکمہ داخلہ سندھ اور آئی جی سندھ کو ارسال کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ تحقیقاتی کمیٹی نے تیار کی ہے جس کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق خاور حسین کے موبائل فون میں کوئی سم موجود نہیں تھی جبکہ ان کی آخری کال واٹر ٹینکر والے کو حیدرآباد کے قریب سے کی گئی تھی۔ موبائل فون پر آخری پیغام آئی کلاؤڈ کی جانب سے موصول ہوا۔
تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ خاور حسین نے اپنے موبائل کا تمام ریکارڈ خود ختم کیا تھا اور اسے فیکٹری سیٹنگ پر ڈال دیا تھا۔ شواہد کے مطابق وہ رات سوا آٹھ بجے ایک ہوٹل کی پارکنگ میں پہنچے، بعدازاں ہوٹل کے اندر جا کر واش روم استعمال کیا۔ اس کے بعد وہ ہوٹل کے سامنے واقع ٹائر شاپ پر گئے جہاں سے انہوں نے ایک پن لی اور اپنے موبائل سے سم نکال دی۔
ابتدائی رپورٹ فرانزک، میڈیکل اور سی سی ٹی وی شواہد کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مزید تحقیقات تاحال جاری ہیں۔



















