صحت مند رہنے کے لیے متوازن غذا نہایت ضروری ہے ماہرین کے مطابق اگر خوراک دوا ہے تو کچھ لوگوں کے لیے نئے نسخے کی ضرورت ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ غذا اور غذائیت کے حوالے سے لوگوں کی بڑی تعداد نادانستہ طوپر کچھ عام غلطیاں کرجاتی جو ان کی صحت کو آہستہ آہستہ متاثر کر کے کئی امراض کا سبب بنتی ہیں۔
سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق بالغ افراد جو صحت مند غذا کو خوراک میں شامل رکھتے ہیں وہ موٹاپے، امراض قلب، ذیابیطس اور یہاں تک کہ کینسر کی کچھ اقسام سے محفوظ رہتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو غیر صحت بخش غذا کھا کر دائمی امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی فرد کی صحت کا 80 فیصد دارومدار اس کی غذائیت پر ہوتا ہے، جبکہ غیر صحت بخش غذا وزن بڑھنے کا سبب بنتی ہے جو بذات خود کئی امراض کی بنیادی وجہ ہے۔
تاہم کچھ غذائی غلطیوں سے پرہیز کر کے نہ صرف صحت بلکہ معیار زندگی کو بلند کیا جاسکتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ شکر کا استعمال

ماہرین نے چینی کے زائد استعمال کو ’’تمام برائیوں کی جڑ‘‘ قرار دیا ہے۔شکر ایک ہائی گلیسیمک انڈیکس کاربوہائیڈریٹ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار جب یہ آنتوں میں داخل ہو جاتی ہے، تو یہ فوراً آنتوں کی سطح کو عبور کر کے خون کے دھارے میں داخل ہو جاتی ہے، جس سے بلڈ شوگر میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔
اس کے جواب میں، لبلبہ انسولین کو خارج کرتا ہے، اور شوگر (یعنی گلوکوز) کو توانائی کے طور پر استعمال کرنے کے لیے خلیوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔لیکن شوگر کے مالیکیول اتنی تیزی سے خون کے دھارے میں شامل ہوتے ہیں کہ وہ شریانوں کی دیواروں کو نقصان پہنچاکر سوزش کا باعث بنتے ہیں۔ سادہ کاربوہائیڈریٹ کھانے سے انسولین کی سطح میں اضافہ ہو کر چربی استعمال ہونا بند ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی چربی کی پیداوار بھی شروع ہو جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین سادہ کاربوہائیڈریٹ جیسے روٹی، پاستا، چاول، کینڈی یا دیگر چیزوں کو محدود کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جن کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ماہرین صرف ایسے کاربوہائیڈریٹس کھانے کا مشورہ دیتے ہیں جن کا گلیسیمک انڈیکس 40 یا اس سے کم ہو۔
کھانے کی مقدار کو نظر انداز کرنا
کھانے کی مقدار جو بہت زیادہ ہو روزانہ اضافی کیلوری کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق غذا کو عجلت میں کھانے کے بجائے آہستہ اور چباکر کھائیں۔ غذا کو نگلنے سے پہلے 20 بار چبائیں۔ ماہرین کے مطابق جب پیٹ بھر جاتا ہے تو معدہ ایک سگنل دیتا ہے، پیٹ بھرنے کا یہ اشارہ قدرے وقفے کے بعد سامنے آتا ہے اگر آپ چباکر کھاتے ہیں تو اس کے لیے ایک مخصوص وقت درکار ہوتا ہے اس طرح آپ پیٹ بھرنے کے اشارہ ملنے پر آپ کم کھاتے ہیں ۔ لیکن عجلت میں اور چبائے بغیر کھانے سے آپ اس اشارے سے آگاہ نہیں ہوپاتے اور اس طرح بہت زیادہ کھا لیتے ہیں۔
پروٹین کا کم استعمال
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جو صرف سبزیاں کھاتے ہیں ان میں پروٹین کی کمی ہونے لگتی ہے اگر آپ دن بھر میں پروٹین کی زائد مقدار کو غذا میں شامل نہیں رکھتے تو ایسی صورت میں آپ کے پٹھے کمزور ہوسکتے ہیں۔ پروٹین جسم کی صحت کے لیے ایک لازمی جز ہے۔ یہ پٹھوں، ہڈیوں اور جلد کو بنانے اور ان کی صحت کو برقرار رکھنے میں اہم کرادار ادا کرتا ہے۔
پٹھے پروٹین کو جمع کر تے ہیں اس طرح تناؤ یا بیماری کے وقت، جسم پٹھوں سے امینو ایسڈ نکال کر اینٹی باڈیز بنا سکتا ہے اور کئی انفیکشن کا سبب بننے والے جراثیم سے تحفظ فراہم کر سکتاہے۔ یہ امینو ایسڈ زخمی ٹشوز کی مرمت کے لیے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ماہری روزانہ کم از کم 0.75 گرام پروٹین فی پاؤنڈ جسمانی وزن کے حساب سے کھانے کی سفارش کرتے ہیں۔
چکنائی سے مکمل پرہیز کرنا
چکنائی کے حوالے سے ایک عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ چکنائی خراب ہے لیکن اس میں صداقت نہیں ہے۔ صرف انسولین کی اعلی سطح کی موجودگی میں چکنائی آپ کے لیے بری ہے۔
پروٹین کے ساتھ یا کم گلیسیمک انڈیکس کاربوہائیڈریٹ کے ساتھ چکنائی کھانے سے انسولین کی سطح کم رہتی ہے، اس طرح یہ چکنائی کو استعمال کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
چکنائی خاص طور پر اومیگا 3 اور اومیگا 9 سوزش کو کم کرنے اور آزاد ریڈیکلز کا مقابلہ کرنے کے لئے خاص اہمیت رکھتی ہے جو خلیوں کی دیواروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کرسکتے ہیں۔
سبزیوں کا استعمال نہ کرنا
سنزیاں صحت کے لیے انتہائی مفید ہوتی ہیں ان غذاؤں میں وٹامنز اور معدنیات بکثرت موجود ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سبزیاں فائبر کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے جو معدے کی صحت کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
فائبر کا کم استعمال
ماہرین کے مطابق فائبر خون میں شکر کے جذب ہونے کی شرح کو کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ فائبر آنتوں کے کینسر کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔ دن کے وقت بروکولی اور پالک جیسی سبزیوں کو غذا میں ضرور شامل رکھیں۔
زیادہ پانی نہ پینا
پانی کے مناسب استعمال کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، خاص طور پر عمر رسیدہ افراد جن میں وقت کے ساتھ پیاس لگنے کا احساس کم ہونے لگتا ہے۔ پانی جسم کے تمام ہی افعال کو بہتر انداز میں انجام دینے میں معوان کردار ادا کرتا ہے۔
پانی کی کمی کے خطرناک اثرات سے بچنے کے لیے ماہرین روزانہ ایک گیلن الیکٹرولائٹ سے بھرپور پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔
رات کو دیر سے کھانا
لوگوں کی بڑی تعداد دن میں کم کیلوری لینے کے بعد رات بہت زیادہ کھانا کھاتی ہے واضح رہے کہ رات میں میٹابولک ریٹ سست ہو جاتا ہے اس طرح کھانا درست انداز میں ہضم نہیں ہوتا اور وزن بڑھنے لگتا ہے۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ نے دن میں کتنا اچھا کھایا ہے، تاہم چربی جلانے کا عمل شام میں بند ہو جاتا ہے، کوشش کریں کہ صبح کا ناشتہ بھرپور انداز میں کیا جائے، جب میٹابولک ریٹ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
اسی مناسبت سے ایک کہاوت بھی مشہور ہے کہ ناشتہ بادشاہ کی طرح کرو، دوپہر کا کھانا شہزادوں کی طرح اور رات کا کھانا غریب کی طرح کھاؤ۔
غذا سے پرہیز کرنا
بعض لوگ وزن کو کم کرنے یا اعتدال میں رکھنے کے لیے مختلف غذا سے پرہیز کرتے ہیں اور سخت ڈائٹنگ کرتے ہیں ایسی صورت میں آپ چند غذاؤں کا نتخاب کر کے بہت ساری غذائیت سے محروم ہوجاتے ہیں جو صحت کے لیے ضروری ہوتی ہیں اور ساتھ ہی جب آپ غذائی پرہیز کو ختم کر دیتے ہیں تو وزن اور بھی تیزی سے بڑھنے لگتا ہے، لہذا سب کچھ کھائیں لیکن اعتدال میں رہتے ہوئے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں