Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

یہ عام سی غذا چھاتی کے سرطان کا خطرہ کم کرسکتی ہے، تحقیق

السی کے بیج جسے انگریزی میں فلیکس سیڈزکہا جاتا ہے قدرتی سپر فوڈز میں سے ایک ہیں۔ ان میں فائبر اور اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کے ساتھ پودوں پر مبنی مرکبات جنہیں لگنن کہا جاتا ہے کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

حال ہی میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق جو جرنل مائیکرو بایولوجی اسپیکٹرم میں شائع ہوئی ہے کے مطابق، السی کے بیج میں موجود لگنن آنت میں موجود مائیکروجنزموں کو تبدیل کرکے چھاتی کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

اس تحقیق میں السی کے بیج میں پایاجانے والا لگنن کو آنتوں کے مائیکروجنزموں اورممری گلینڈ  آر این اے ایس کے درمیان تعلق کو تبدیل کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جو چھاتی کے کینسر کے خلیوں کی نشوونما اور منتقلی میں ملوث جینوں کو منظم کرتے ہیں۔

یونیورسٹی آف نیبراسکا – لنکن میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جینیفر آچٹنگ نے کہا، ’’معدے کا مائیکرو بائیوٹا انسانی صحت پر اثر انداز ہونے کے لیے خوراک کے بہت سے اجزاء کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

السی کے بیج کے فوائد

السی کے بیج کا استعمال اکثر ہاضمہ کی صحت کو بہتر بنانے اور قبض سے نجات کے لیے کیا جاتا ہے – یہ خاص طور پراسے اگر پیس کر استعمال کیا جائے تو یہ زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے تاہم بغیر پسے ہوئے بیج فوائد فراہم کیے بغیر نظام انہضام سے گزر سکتے ہیں۔

یہ مکمل بلڈ کولیسٹرول اور ایل ڈی ایل جسے خراب کولیسٹرول بھی کہا جاتا ہے کی سطح کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے اس طرح امراض قلب کے خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

السی کے بیج کو پیس کراس کا ایک چیچ ناشتے، دہی، کوکیز، مفنز، بریڈ اور دیگر بیکڈ اشیا میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔

فلیکس سیڈ اور چھاتی کا سرطان

اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آیا چھاتی کے سرطان کے خطرے کو کم کرنے کے لیے آنتوں کے مائیکرو بائیوٹا اور میمری گلینڈ کے درمیان تعلق کو تبدیل کیا جا سکتا ہے، محققین نے مادہ چوہوں کو فلیکس سیڈ لگنن کے اجزاء کھلائے۔

محققین نے پایا کہ مائیکرو بائیوٹا اور میمری غدود درحقیقت آپس میں جڑے ہوئے ہیں، اور یہ کہ السی کے بیج میں موجود لگنن اس تعلق کو تبدیل کرتے ہیں جو کینسر کا باعث بنتے ہیں۔

Exit mobile version