ویکسین اور بیکٹیریا کا معاملہ گویا شطرنج کی چال کی طرح ہے دنیا بھرمیں اینٹی بایوٹکس بہت ہی مخصوص اور محدود ہیں جو تیزی سے بدلتے ہوئے بیکٹیریا، جراثیم اور وائرس کے سامنے بے اثر ہوتی جارہی ہیں۔
اسی لیے سائنسدان ایک عرصے نئی اینٹی بایوٹکس ادویہ کی تیاری میں مصروف ہیں اور اس کے لیے ہرسال لاکھوں ڈالر کی رقم خرچ کی جارہی ہے، تاہم اب اچھی خبر یہ ہے کہ تمام اقسام کی اینٹی بایوٹکس کو بے اثربنانے والا ڈھیٹ بیکٹیریا کے خلاف ایک نئی اینٹی بایوٹکس سامنے آئی ہے جو اس بیکٹیریا کو بے اثرکرسکتی ہے اور اس سے جنم لینے والے انفیکشن کا خاتمہ کرسکتی ہے۔
اس بیکٹیریا کا نام ایسینیٹوبیکٹربیومانی ہے جو ایک عرصے سے سائنسدانوں، خصوصاً ڈاکٹروں کے لیے درد سر بنا ہوا تھا اس بیکٹیریا سے متاثر ہونے والا شخص بہت ہی کم صحت یاب ہوتا ہے اور وقفے وقفے سے بیمار ہوتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی طاقتور ترین جن میں پہلے درجے، دوسری درجے اور تیسرے درجے کی تمام اینٹی بایوٹکس بھی اس کے اوپر اثر نہیں کرتی۔
یہ بیکٹیریا سانس کی نالی، پھیپھڑوں، پیشاب کی نالی اور خون کو متاثر کرتا ہے اور طویل عرصے تک وہی رہتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے 2017 میں اسے ڈھیٹ ترین بیکٹیریا کی فہرست میں شامل کیا تھا اوراس کا تکنیکی نام سی آر اے بی یعنی کریب ہے۔
واضح رہے کہ یہ بیکٹیریا امریکا میں دوفیصد، جبکہ ایشیاء اور دیگر ممالک میں 20 فیصد تک مریضوں کو متاثر کرتا ہے اور بڑے پیمانے پرابھی بھی جان لیوا بیکٹریا ثابت ہوا ہے۔
اس بیکٹیریا کے حوالے سے سب سے تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ اسپتالوں میں عام پایا جاتا ہے۔ چاہے اسپتال ہوں یا نرسنگ ہوم، یہاں تک کہ آئی سی یو کے اندرجب مریض کے زخم کھولے جاتے ہیں یا سانس کی نالیاں کھلی رکھی جاتی ہیں وہاں پر بھی یہ بیکٹیریا جمع ہوتا رہتا ہے اور یوں شفا موت کا پیغام بن جاتی ہے۔
گزشتہ پچاس برس سے اس بیکٹیریا کے خلاف کسی نئی اورمؤثر دوا کے اوپر تحقیق کی جارہی تھی اورماہرین بھی اس کے منتظر تھے۔
اس نئی دوا کا نام زوسیورا بیلپن رکھا گیا ہے اور یہ دوا روش کمپنی نے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر تیار کی ہے۔ واضح رہے کہ زوسیورا بیلپن کو 45000 اینٹی بایوٹکس کے ٹکڑوں کےملاپ سے تیار کیا گیا ہے، اوراس کے لیے کمیٹیشنل ٹیکنالوجی اور ماہرین طویل اورصبر آزما مراحل سے گزرے ہیں تب کہی جاکر یہ اینٹی بایوٹکس تیار ہوئی ہے۔ کلینیکل ٹرائلز اور جانوروں کے ٹرائلز میں یہ دوا نہایت مؤثر اور کامیاب ثابت ہوئی ہے ۔
