دنیا میں بہت سی غذائیں عام ہونے کے باوجود اپنی قیمت کی وجہ سے کافی مشہور ہوجاتی ہیں ان ہی میں جاپانی مشروم بھی شامل ہے۔
یوں تو مشروم دنیا کے کئی ممالک میں پیدا ہوتا ہے لیکن جاپانی میٹسوٹیک نامی مشروم دنیا کا مہنگا ترین مشروم ہے، جو کہ فی پونڈ 500 امریکی ڈالر میں فروخت کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ جاپانی کھانوں میں اس مشروم کو ایک قیمتی اجزاء کے طور پر جانا جاتا ہے۔
میٹسوٹیک نامی یہ مشروم کوریا، چین اور یہاں تک کہ ریاستہائے متحدہ میں بھی اگتے ہیں، لیکن جاپان میں، خاص طور پر کیوٹو کے علاقے کے ارد گرد کاشت کی جانے والی یہ کھمبیاں خاص شہرت رکھتی ہیں۔
دیگر ممالک میں کاشت کی جانے والی یہی کھمبیاں 50 ڈالر فی پاؤنڈ یا اس سے کم میں فروخت ہوتی ہیں، لیکن جاپانی مشروم کی قیمت اس سے دس گنا زیادہ ہوتی ہے۔ جاپانی میٹسوٹیک مشروم اپنی خاص مہک، منفرد ساخت اور میٹھے ذائقے کی وجہ سے کافی پسند کیے جاتے ہیں۔
میٹسوٹیک کی قیمت زیادہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں ان میں سب سے پہلے تو ان کی کم پیداوار ہے۔ گزشتہ 70 برسوں میں اس مشروم کی سالانہ فصل میں 95 فیصد کی تک کمی واقع ہوئی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ ایک نایاب اور لذیذ غذا بن گئی ہے۔
دوسرا اس مشروم کی کاشت سال میں صرف ایک بار، یعنی ستمبر یا اکتوبر میں کی جاتی ہے اور معمولی سا خطرہ بھی اس کی فصل کو متاثر کرتا ہے ہر سال صرف 1,000 ٹن سے بھی کم میٹسوٹیک کی فصل تیار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت یعنی 500 امریکی ڈالر فی پاؤنڈ ادا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
