بورون ایک ایسی معدنیات ہے جو آپ کے جسم کی بہترین کارکردگی اور صحت کے لیے بےحد ضروری ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ بورون جوڑوں کی سوزش اور گٹھیا کو روکنے اور حتیٰ کہ اس کا علاج کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
یہ ہڈیوں میں کیلشیم کے جذب ہونے کو بہتر بنانے کے ساتھ سوزش کو کم کرنے کے لیے بھی جانی جاتی ہے، جس سے سوجن زدہ جوڑوں کا علاج کرنا آسان ہوجاتا ہے، آپ اسے مختلف غذاؤں جیسے پھل، دالوں اور سبزیوں سے آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں جبکہ روزانہ بورون سے بھرپور غذائیں استعمال کر کے اس معدنیات کی کمی کو دور کیا جاسکتا ہے،
بورون کے فوائد کی فہرست بہت طویل ہے، یہ ٹیسٹوسٹیرون میں اضافہ، ایسٹروجن کی پیداوار، آسٹیوپروسس کی روک تھام، خلیاتی جھلی کی بہتر کارکردگی، خون جمنے سے بچانےاور فنگل انفیکشن کا علاج میں مدد فراہم کرتی ہے۔
جسم میں اس اہم معدنیات کی کمی کی صورت میں جو مسائل سامنے آتے ہیں ان میں جنسی ہارمون کا عدم توازن، ہائپوتھائیرائڈزم، اعصابی مسائل، ہڈیوں کے ٹشو ضائع ہونا اور گٹھیا شامل ہیں۔
بورون کے زائد مقدار میں استعمال سے جسم میں کوئی خطرہ جنم نہیں لیتا کیونکہ گردے اضافی بورون کو آسانی سے جسم سے خارج کر دیتے ہیں۔ تاہم، گردے کے امراض میں مبتلا افراد میں بورون کے زائد استعمال سے مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں، خاص طور پر جب اسے سپلیمنٹس کی صورت میں لیا جائے۔
بورون کی زیادہ مقدارمیں استعمال سے جو علامات سامنے آتی ہیں ان میں متلی، قے، کمزوری، جلد کی بیماری اور ہڈیوں کے افعال میں مسائل شامل ہیں۔
یہاں پر کچھ ایسی غذائیں بتائی جارہی ہیں، جن میں بورون پایا جاتا ہے۔ آپ انہیں اپنی روزمرہ کی غذا میں شامل کر کے بورون کی کمی کو دور کر سکتے ہیں۔
خشک پھل
جتنے بھی خشک پھل یا میوہ جات ہیں ان میں بورون بکثرت پایا جاتا ہے آپ کو جان کر یہ حیرت ہوگی کہ کشمش میں سب سے زیادہ بورون موجود ہوتا ہے، صرف 100 گرام کشمش آپ کو 4.5 ملی گرام بورون فراہم کرتی ہے، اس کے علاوہ کھجوریں، پلپ اور خوبانیاں بھی بورون کے بہترین ذرائع ہیں، خشک پھلوں کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ ان میں وٹامن اے اور سی بھی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔
مغز
بورون کی کافی مقدار حاصل کرنے کے لیے مغزکو سلاد، دہی یا اوٹ میل پر چھڑک کراستعمال کیا جاسکتا ہے، بادام میں سب سے زیادہ بورون پایا جاتا ہے، 100 گرام بادام 2.2 ملی گرام بورون فراہم کرتا ہے، اس کے علاوہ کاجو، اخروٹ، ہیزل نٹس اور برازیل نٹس بھی بورون کے اچھے ذرائع ہیں۔
ایواکاڈو
روزانہ 100 گرام ایوا کاڈو کھانے سے آپ 2.1 ملی گرام بورون حاصل کر سکتے ہیں۔ اس مزیدار پھلوں کو اسی طرح کھانے کے علاوہ، آپ ایووکاڈو کو مختلف طریقوں سے استعمال کر سکتے ہیں، جیسے اسموتھیز، میٹھی ڈش، سلاد اور دیگرپکوانوں میں بھی اس شامل کیا جا سکتا ہے۔
پینٹ بٹر
کیا آپ کو پینٹ بٹر سینڈوچ پسند ہے؟ اگر ہاں، تو بورون کی کمی کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر 100 گرام پینٹ بٹر میں آپ کو 1.9 ملی گرام بورون ملتا ہے۔ اگر آپ صحت کی طرف بہت محتاط ہیں، تو آپ کم سوڈیم اور چربی والا پینٹ بٹر منتخب کر سکتے ہیں۔
دالیں
دالیں جیسے کہ لوبیا، مٹر اور مسور کی دالوں میں ہر 100 گرام میں تقریبا 0.71 ملی گرام بورون پایا جاتا ہے۔ دالوں کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ کم چربی والی ہوتی ہیں مگر پروٹین اور غذائی ریشہ سے بھرپور ہوتی ہیں۔ انہیں غذا میں شامل رکھنے سے بورون کے علاوہ جسم کو آئرن، میگنیشیم، کیلشیم اور وٹامن بی 6 بھی ملتا ہے۔
