فی زمانہ ہونٹوں کے سائز کو بھرا بھرا بنانے کے لیے لپ فلر کا استعمال عام ہوگیا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی لاکھوں خواتین اسے ایک آسان طریقہ سمجھتے ہوئے شوق سے کرواتی ہیں مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ لپ فلر طویل مدت میں خطرناک اثرات پیدا کر سکتا ہے، یہاں تک کہ ایک نایاب قسم کا کینسر ا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ لپ فلر میں خطرناک کیمیکلز ہوسکتے ہیں، جو لپ فلر کے دوران جسم کے دوسرے حصوں میں بھی جاسکتے ہیں، اور جسم میں رکاوٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر کالیوپی ڈوڈو، جو ٹیسیڈ یونیورسٹی میں فارماسیوٹکس کی سربراہ ہیں، نے کہا کہ یہ کیمیکلز خلیات میں تبدیلیاں پیدا کرکے، خون کے کینسر کا سبب بن سکتے ہیں، اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، تاہم یہ ایک ممکنہ خطرہ ہے جس پر غور کرنا چاہیے، اسی لیے انہوں نے برطانیہ میں لپ فلر کے لیے سخت قواعد و ضوابط کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈاکٹر ڈوڈو نے اپنی ایک نئی تحقیق میں، 111 مطالعات کا موازنہ کیا جن میں ہائیلورونک ایسڈ (HA) کی بطور لپ فلر کی حفاظت کے بارے میں رپورٹیں شامل تھیں، تاہم نتیجہ اس کے برعکس ملا۔
یہ جیلی نما مادہ صرف ہونٹوں اور گالوں کو بھرنے کے لیے استعمال نہیں ہوتا، بلکہ جلد کی ہائیڈریشن اور لچک بڑھانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ 2019 میں ایک سروے میں، 13 سے 24 سال کی عمر کے 51,000 نوجوانوں میں سے نصف نے کہا کہ وہ ان فلر کو بال کٹوانے یا مینی کیور کے برابر سمجھتی ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فلر میں استعمال ہونے والے کچھ مادے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ہائیلورونک ایسڈ خود زہریلا نہیں ہے، لیکن فلرکے تیار کرنے میں استعمال ہونے والے دیگر کیمیکلز، جو مختلف موٹائی فراہم کرتے ہیں، نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
جب ہونٹ کو موٹا بنانے کے لیے فلر کی مقدار بڑھتی ہے تو ان کیمیکلز کے ٹوٹنے کی وجہ سے خطرے میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فلر وقت کے ساتھ ٹوٹتا ہے اور ممکنہ طور پر زہریلے مادے خارج کر سکتا ہے۔
ایک تحقیق سے بات بھی سامنے آئی کہ فلر لمفی نظام میں داخل ہو سکتا ہے، جو جسم میں بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر فلر کو زیادہ مقدار میں یا غلط طریقے سے لگایا جائے تو یہ لمفی غدود کو روک سکتا ہے، جس سے سوجن اور بعض اوقات لیمفوما جیسی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔
ماہرین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ فلر اور کینسر کے درمیان تعلق کی تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان طریقوں کے دوران فلر آنکھوں کے گرد خون کی نالیوں کو روک کر بینائی کے مسائل یا اندھے پن کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
اس ضمن میں بہت سے کلینکس قابل اعتبار ہیں، مگر بڑھتی ہوئی تعداد میں مریض نقصانات کی شکایت کر رہے ہیں۔ ہر سال بر طانیہ میں تقریباً 900,000 Botox انجیکشن لگائے جاتے ہیں، تاہم 2022 میں 3,000 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے دو تہائی فلر سے متعلق تھیں۔
